کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 84
(راوی نے مزید بیان کیا:) فَنَظَرُوْا، فَإِذَا عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ رضی اللّٰهُ عنہ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ مُعَاوِیَۃُ رضی اللّٰهُ عنہ، فَسَأَلَہٗ۔ لوگوں نے دیکھا، تو وہ عمرو بن عَبَسہ رضی اللہ عنہ تھے۔معاویہ رضی اللہ عنہ نے بلا کر اُن سے(بات کا سبب)دریافت کیا۔ انہوں نے(جواب میں)کہا:’’سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم یَقُوْلُ: ’’مَنْ کَانَ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَ قَوْمٍ عَہْدٌ فَلَا یَشُدُّ عُقْدَۃً وَ لَا یَحُلُّہَا، حَتّٰی یَنْقَضِيَ أَمَدُہَا أَوْ يَنبِذَ إِلَیْہِمْ عَلٰی سَوَائٍ۔‘‘ انہوں نے(جواب میں)کہا:’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، کہ: ’’جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو، تو وہ مدت پوری ہونے تک اس میں کمی و بیشی نہ کرے یا انہیں معاہدے کے ختم کرنے کے بارے میں پیشگی اطلاع دے۔‘‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اس فرمانِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا اثر ہوا؟ سُلَیْم بن عامر ہی بیان کرتے ہیں: ’’فَرَجَعَ مُعَاوِیَۃُ رضی اللّٰهُ عنہ۔‘‘[1] ’’معاویہ رضی اللہ عنہ واپس ہو گئے۔‘‘ حکمت و مصلحت اور عقل و دانش کے عنوان سے بنائی ہوئی فریب کاریوں کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چون و چرا تعمیل اور بس۔رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ وَ [1] صحیح سنن أبي داود، کتاب الجہاد، باب في الإمام یکون بینہ و بین العدو عہد فیسیر إلیہ، رقم الحدیث ۲۳۹۷-۲۷۵۹، ۲/۵۲۸؛ و صحیح سنن الترمذي، أبواب السیر، باب ما جاء في الغدر، رقم الحدیث ۱۲۸۵-۱۶۴۵، ۲/۱۱۳۔۱۱۴۔اور الفاظِ حدیث سنن أبي داود کے ہیں۔