کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 81
منادی کرنے والے کو حکم دیا، کہ وہ اعلان کرے: ’’سنو!بے شک شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے۔‘‘ اس اعلانِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیر کے متعلق حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’فَقَالَ لِيْ أَبُوْ طَلْحَۃَ:’’اُخْرُجْ، فَاہْرِقْہَا۔‘‘ فَخَرَجْتُ، فَہَرَقْتُہَا، فَجَرَتْ فِيْ سِکَکِ الْمَدِیْنَۃِ۔‘‘[1] ’’ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا:’’(باہر)نکل کر اُسے(یعنی شراب کو)انڈیل دو۔‘‘ میں اُٹھا اور اُسے باہر انڈیل دیا۔(لوگوں کے کثرت سے شراب گلیوں میں انڈیلنے کی وجہ سے)وہ گلیوں میں بہنے لگی۔‘‘ شراب کی حرمت کا اعلان سُن کر سچی محبت کرنے والے پاک باز انسانوں کا ردّعمل اُسے گلیوں میں پھینکنے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔اسی بنا پر شراب گلیوں میں اس طرح بہنے لگی، جس طرح سیلاب کا پانی گلیوں میں بہتا ہے۔ اسی بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:’’اس روایت میں اس طرف اشارہ ہے، کہ جس کے ہاں بھی شراب تھی، اس نے گلی میں انڈیل دی، یہاں تک کہ وہ کثرت سے گلیوں میں پھینکے جانے کی وجہ سے، سیلاب کے پانی کی طرح بہنے لگی۔‘‘[2] یہ سارا عمل چوں چرا اور قیل و قال کے بغیر مکمل ہوا۔امام بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوںنے بیان کیا: ’’فَإِنِّيْ لَقَائِمٌ أَسْقِيْ أَبَا طَلْحَۃَ وَ فُلَانًا وَ فُلَانًا، إِذْ جَآئَ رَجُلٌ، فَقَالَ: [1] صحیح البخاري، کتاب المظالم، باب صبّ الخمر في الطریق، رقم الحدیث ۲۶۶۴، ۵/۱۱۲۔ [2] فتح الباري ۱۰/۳۹۔