کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 77
کے ساتھ نمازِ عصر ادا کرکے نکلا، تو انصار کے ایک گروہ کے پاس سے اس کا گزر ہوا۔اس نے اُن سے کہا: ’’وَ ہُوَ یَشْہَدُ أَنَّہٗ صَلّٰی مَعَ النَّبِيِّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، وَ أَنَّہٗ قَدْ وُجِّہَ إِلَی الْکَعْبَۃِ۔‘‘ ’’وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے، کہ اُس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رخِ(اقدس)کعبے کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔‘‘ ’’فَانْحَرَفُوْا، وَ ہُمْ رُکُوْعٌ فِيْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ۔‘‘ یہ سن کر ان حضرات نے نمازِ عصر میں رکوع کی حالت ہی میں اپنے چہروں کو(کعبے کی طرف)موڑ لیا۔‘‘[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی میں ان پاک باز اور مقدس حضرات نے کس قدر جلدی کی! جب انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق معلوم ہوا، کہ اُنہوں نے نماز میں چہرۂ مبارک کعبۃ اللہ کی طرف موڑ لیا ہے، تو انہوں نے بغیر کسی ادنیٰ تردد اور تاخیر کے اس پر عمل کیا۔رکوع سے سر اٹھانے کی معمولی تاخیر کو بھی، گوارا نہ کیا، بلکہ اُسی حالت میں اپنے چہروں کو کعبۃ اللہ کی طرف پھیرلیا۔رَضِيَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ۔ ۲:ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل میں صحابہ کا ایک دوسرے کے قریب پڑاؤ ڈالنا: حضراتِ صحابہ صرف نماز ہی سے متعلقہ مسائل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی فوری تعمیل نہ کرتے، بلکہ زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی ان کی کیفیت ایسی ہی تھی۔آدابِ [1] صحیح البخاري، کتاب أخبار الآحاد، باب ما جاء في إجازۃ خبر الواحد الصدوق …، رقم الحدیث ۷۲۵۲، ۱۳/۲۳۲۔