کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 76
اس بارے میں دو رائیں نہیں، کہ محب اپنے محبوب کی بات مانتا ہے۔ہر وہ عمل، جو اس کے محبوب کو پسند ہو، وہ اُسے کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے اور ہر وہ کام، جسے اس کا محبوب ناپسند کرے، اس سے وہ دور رہتا ہے۔محبوب کی بات ماننے میں وہ ناقابلِ بیان لذّت اور لطف محسوس کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا شدّت سے خواہش مند ہوتا ہے۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی تعمیل اور آپ کی منع کردہ باتوں سے اجتناب کے لیے بے حد کوشاں رہتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے والے حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سلسلے میں بہت زیادہ واقعات میں سے نو، ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: ۱:حضراتِ انصار کا حالتِ رکوع ہی میں چہروں کو کعبۃ اللہ کی طرف پھیر دینا: امام بخاری حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے بیان کیا:’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، تو سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے رہے،(لیکن)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم(نماز میں)کعبہ کی طرف رخ کے پھیرے جانے کو پسند کرتے تھے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ(آیت شریفہ)نازل فرمائی: {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآئِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا}[1] [بے شک ہم آپ کا چہرہ بار بار آسمان کی طرف کرنا دیکھ رہے ہیں، سو جو قبلہ آپ پسند کرتے ہیں، ہم آپ کو اسی قبلہ کی طرف ضرور پھیر دیں گے۔] تو(اس طرح)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ کعبے کی طرف پھیرا گیا۔ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم [1] سورۃ البقرۃ / جزء من رقم الآیۃ ۱۴۴۔