کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 70
تک کہ زخموں نے انہیں گرادیا۔پھر مسلمانوں کا ایک گروہ پلٹا اور انہوں نے وہاں سے ان(یعنی مشرکوں)کو ہٹا دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’أَدْنُوْہُ مِنِّيْ۔‘‘ ’’انہیں میرے قریب کرو۔‘‘ ’’فَاَدْنَوْہُ مِنْہُ، فَوَسَّدَہٗ قَدَمَہٗ۔فَمَاتَ وَخَدَّہٗ عَلٰی قَدَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔‘‘[1] لوگوں نے انہیں قریب کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اپنا قدم بڑھایا، تاکہ وہ اس پر اپنا سر رکھ لیں۔پھر ان کی موت کا وقت آپہنچا اور ان کا رخسار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم(مبارک)پر تھا۔‘‘ اللہ اکبر!یہ موت کس قدر لذت افروز اور قابلِ رشک تھی! ۷:عالَم نزع میں سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سلامتی کی فکر کرنا: معرکۂ احد کے زخمیوں میں سے ایک اور محب صادق کو دیکھتے ہیں، کہ اُن کے جسم پر تیر، تلوار اور خنجر کے ستّر کاری زخم ہیں۔اُن کے اس دارِفانی اور اپنے اہل و عیال اور مال و متاع سے جدا ہونے میں صرف چند لمحات باقی ہیں، لیکن اُن لمحات میں انہیں کس بات کی فکر تھی؟ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے امام حاکم کی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت پڑھتے ہیں۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’بَعَثَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم یَوْمَ أُحُدٍ لِطَلَبِ سَعْدِ بْنِ [1] السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ۳/۲۹۔نیز ملاحظہ ہو: السیرۃ النبویۃ لابن حبان البستي ص ۲۲۳۔۲۲۴؛ و تاریخ الاسلام (المغازي) للذہبي ص ۱۷۴۔