کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 64
’’مَنْ لِلْقَوْمِ؟‘‘ ’’قوم کا مقابلہ کون کرے گا؟‘‘ طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’أَنَا۔‘‘ ’’میں‘‘ فَقَاتَلَ طَلْحَۃُ قِتَالَ الْأَحَدَ عَشَرَ، حَتّٰی ضُرِبَتْ یَدُہٗ، فَقُطِعَتْ أَصَابِعُہٗ، فَقَالَ:’’حَسْ۔‘‘ طلحہ رضی اللہ عنہ نے گیارہ(انصاریوں)کے بقدر لڑائی کی۔(دورانِ لڑائی)ان کے ہاتھ پر وار ہوا اور ان کی انگلیاں کٹ گئیں۔انہوں نے کہا:’’حَس‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لَوْ قُلْتَ:’’بِسْمِ اللّٰہِ‘‘ لَرَفَعَتْکَ الْمَلَائِکَۃُ، وَ النَّاسُ یَنْظُرُوْنَ۔‘‘ ’’اگر تو(بسم اللہ)کہتا، تو فرشتے لوگوں کے سامنے ہی تجھے اٹھالیتے۔‘‘ ثُمَّ رَدَّ اللّٰہُ الْمُشْرِکِیْنَ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو پھیردیا۔‘‘[1] اللہ اکبر!رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے والے گیارہ جان نثار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جانیں نچھاور کردیتے ہیں۔پھر بارھویں جان نثار آگے بڑھتے ہیں اور ان کی فداکاری کچھ معمولی نہ تھی، بلکہ تنہا ان کی فداکاری گیارہ پہلے جان نثاروں کی جان نثاری کے بقدر تھی۔ان کا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے شل ہوگیا۔ امام بخاری حضرت قیس سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے کہا: ’’رَأَیْتُ یَدَ طَلْحَۃَ رضی اللّٰهُ عنہ شَلَّائَ، وَقٰی بِہَا النَّبِيَّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم یَوْمَ أُحُدٍ۔‘‘ [1] صحیح سنن النسائي، کتاب الجہاد، باب ما یقول من یطعنہ العدو، رقم الحدیث ۲۹۵۱، ۲/۶۶۱۔