کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 54
الْعَافِیَۃَ۔‘‘[1] ’’میں نے اس منبر پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا:’’میں نے گزشتہ سال اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔‘‘ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔پھر ارشاد فرمایا:’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’کلمۂ اخلاص کے بعد تمہیں عافیت جیسی کوئی نعمت نہیں دی گئی، پس تم اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ’’فَخَنَقَتْہُ الْعَبْرَۃُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ:…… الحدیث۔‘‘[2] ’’آنسوؤں نے تین مرتبہ ان کی آواز کو دبا دیا۔پھر انہوں نے فرمایا… الحدیث‘‘ ۱۰:صدیق رضی اللہ عنہ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جلدی چلے جانے کی تمنا: امام احمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے،(کہ)انہوں نے بیان کیا: ’’إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رضی اللّٰهُ عنہ لَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ:’’أَيُّ یَوْمٍ ہٰذَا؟‘‘ قَالُوْا:’’یَوْمُ الْإِثْنَیْنِ۔‘‘ قَالَ:’’فَإِنْ مِتُّ مِنْ لَّیْلَتِيْ، فَلَا تَنْتَظِرُوْا بِيَ الْغَدَ، فَإِنَّ [1] المسند، رقم الحدیث ۱۰، ۱/۱۵۸-۱۵۹۔شیخ احمد شاکر نے اس کی [سند کو صحیح] قرار دیا۔(ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۱/۱۵۸)۔ [2] المرجع السابق، جزء من رقم الحدیث ۴۴، ۱/۱۷۳۔شیخ احمد شاکر نے اس کی [سند کو صحیح] قرار دیا ہے۔(ہامش المسند ۱/۱۷۳)۔