کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 53
کرنے کا)اختیار دیا گیا(اور انہوں نے رونا شروع کردیا)۔ (اصل حقیقت یہ تھی، کہ)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اختیار دیا گیا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو)سمجھنے والے تھے۔‘‘ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ روایت میں ہے: ’’فَلَمْ یُلَقِّنْہَا إِلَّا اَبُوْبَکْرٍ رضی اللّٰهُ عنہ، فَبَکٰی، فَقَالَ:’’نَفْدِیْکَ بِآبَآئِنَا وَ أُمَّہَاتِنَا وَ أَبْنَآئِنَا۔‘‘[1] ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو نہ سمجھا۔وہ(بات کی تہہ کو پہنچ کر)رونے لگے۔پھر عرض کیا:’’ہم آپ پر اپنے باپ، مائیں اور بیٹے نثار کرتے ہیں۔‘‘ ۹:صدیق رضی اللہ عنہ کا وفاتِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنحضرت کو یاد کرکے رونا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے رحلت کرجانے کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں یاد کرتے، تو ان کے آنسو رواں ہوجاتے۔امام احمد نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،(کہ)انہوں نے بیان کیا: ’’سَمِعْتُ أَبَابَکْرِنِ الصِّدِّیْقَ رضی اللّٰهُ عنہ عَلٰی ہٰذَا المِنبَرِ یَقُوْلُ:’’سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم فِيْ ہٰذَا الْیَوْمِ مِنْ عَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ اسْتَعْبَرَ أَبُوْبَکْرٍ، وَّ بَکٰی۔ ثُمَّ قَالَ:’’سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم یَقُوْلُ: ’’لَمْ تُؤْتُوْا شَیْئًا بَعْدَ کَلِمَۃِ الْإِخْلَاصِ مِثْلَ الْعَافِیَۃِ، فَاسْأَلُوْا اللّٰہَ [1] ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ۹/۴۲۔حافظ ہیثمی نے اس کی [سند کو حسن] قرار دیا ہے۔(المرجع السابق ۹/۴۳)۔