کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 52
۸:صدیق رضی اللہ عنہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقتِ رحلت کا ادراک کرکے رونا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبِ صادق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خطبے کے اشاروں اور کنایوں سے اندازہ کرتے ہیں، کہ حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا وقت قریب آپہنچا ہے۔اُن کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہوجاتے ہیں۔امام بخاری نے اس قصے کی تفصیل حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے درجِ ذیل الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے: خَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم النَّاسَ، وَ قَالَ:’’إِنَّ اللّٰہَ خَیَّرَ عَبْدًا بَیْنَ الدُّنْیَا وَ بَیْنَ مَا عِنْدَہٗ، فَاخْتَارَ ذٰلِکَ الْعَبْدُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ۔‘‘ قَالَ:’’فَبَکٰی اَبُوْبَکْرٍ رضی اللّٰهُ عنہ، فَعَجِبْنَا لِبُکَائِہٖ أَنْ یُخْبِرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عَنْ عَبْدٍ خُيِّرِ فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم ہُوَ الْمُخَیَّرَ، وَ کَانَ أَبُوْبَکْرٍ رضی اللّٰهُ عنہ أَعْلَمَنَا۔‘‘[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔(اس خطبہ میں)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک بندے کو دنیا اور جو کچھ ان کے پاس ہے، دونوں میں سے ایک چیز منتخب کرنے کا موقع عطا فرمایا۔اس بندے نے وہ چیز پسند کی، جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ انہوں(ابوسعید رضی اللہ عنہ)نے بیان کیا: ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رونا شروع کردیا۔ہمیں ان کے رونے پر تعجب ہوا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بندے کے متعلق بتلایا، کہ اسے(دو میں سے ایک چیز منتخب [1] صحیح البخاري، کتاب فضائل الصحابۃ، باب قول النبي صلي اللّٰهُ عليه وسلم : ’’سدوا الابواب إلا باب أبي بکر رضی اللّٰهُ عنہ، جزء من رقم الحدیث ۳۶۵۴، ۷/۱۲۔