کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 51
’’مَا لَدَیْکَ؟‘‘ ’’کیا خبر لائے ہو؟‘‘ (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے)عرض کیا: ’’اَلَّذِيْ تُحِبُّ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، أَذِنَتْ۔‘‘ ’’اے امیر المومنین!وہ جو آپ کو پسند ہے، انہوں نے اجازت دے دی ہے۔‘‘ فرمانے لگے: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ!مَا کَانَ مِنْ شَيْئٍ أَہَمُّ إِلَيَّ مِنْ ذٰلِکَ۔فَإِذَا أَنَا قَضَیْتُ، فَاحْمِلُوْنِيْ، ثُمَّ سَلِّمْ، وَ قُلْ: ’’یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔‘‘ فَإِنْ أَذِنَتْ لِيْ فَأَدْخِلُوْنِيْ، وَ إِنْ رَدَّتْنِيْ رُدُّوْنِيْ إِلٰی مَقَابِرِ الْمُسْلِمِیْنَ۔‘‘ ’’الحمد للہ۔میری نگاہ میں اس سے اہم کوئی بات نہ تھی۔جب میں فوت ہوجاؤں، تو مجھے اٹھا کر وہاں لے جاکر سلام عرض کرنا اور کہنا:’’عمر بن خطاب اجازت مانگتا ہے۔‘‘ اگر انہوں(عائشہ رضی اللہ عنہا)نے اجازت دے دی، تو مجھے وہاں داخل کردینا۔اگر انہوں نے اجازت نہ دی، تو مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں لے جانا۔‘‘[1] اللہ اکبر!نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے محب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں زندگی کے آخری لمحات میں سب سے اہم بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں قبر کا حصول ہے۔رب رحمن و رحیم نے اپنے اس سچے مومن بندے کی آرزو کو پورا فرمایا۔ [1] صحیح البخاري، کتاب فضائل الصحابۃ، باب قصۃ البیعۃ، و الاتفاق علٰی عثمان بن عفان رضی اللّٰهُ عنہ، …، جزء من رقم الحدیث ۳۷۰۰، ۷/۶۰۔۶۱۔