کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 49
امام ابن قیّم لکھتے ہیں: ’’جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر تقسیم مال کی حکمت بیان فرمائی، جو ان پر مخفی تھی، تو وہ فرماں بردار ہوکر پلٹے۔انہوں نے سمجھ لیا، کہ سب سے بڑی غنیمت تو یہ ہے، کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنی بستی میں لوٹے ہیں۔وہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور وفات دونوں حالتوں میں رفاقت کی عظیم دولت میسر آنے پر بکریوں، اونٹوں، لونڈیوں اور غلاموں کو یکسر بھول گئے۔‘‘[1] ۷:فاروق رضی اللہ عنہ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جوار میں دفن ہونے کی تمنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبِ صادق امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس دنیا سے کوچ فرما رہے ہیں۔اس وقت اُن کی سب سے بڑی آرزو یہ ہے، کہ دفن ہونے کے لیے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں جگہ میسر آجائے۔امام بخاری عمرو بن میمون کے حوالے سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’یَا عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ!اِنْطَلِقْ إِلٰی عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ- رضی اللّٰهُ عنہا - فَقُلْ: ’’یَقْرَأُ عُمَرُ عَلَیْکِ السَّلَامُ،‘‘ وَ لَا تَقُلْ:’’أَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘، فَإِنِّيْ لَسْتُ الْیَوْمَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ أَمِیْرًا، وَ قُلْ: ’’یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ یُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَیْہِ۔‘‘ ’’اے عبد اللہ بن عمر!ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاکر کہو:’’عمر آپ کو [1] فتح الباري ۸/۴۹۔