کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 44
جبریل علیہ السلام کے درجِ ذیل آیت کے ساتھ تشریف لانے تک، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے جواب میں کچھ نہ فرمایا: [ترجمہ:اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور رسول- صلی اللہ علیہ وسلم - کی فرمانبرداری کریں، پسوہ ان لوگوں کے ساتھ(جنت میں)ہوں گے، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا، پیغمبروں سے اور صدیقوں سے اور شہیدوں اور صالحین سے۔] ۵:جنت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لیے ربیعہ رضی اللہ عنہ کی فرمائش: ایک اور سچے محب حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کو فرمائش کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ان کی فرمائش کیا تھی؟ امام مسلم نے ان کی فرمائش کا واقعہ خود انہی کی زبانی یوں بیان کیا ہے: ’’کُنْتُ أَبِیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، فَأَتَیْتُہٗ بِوَضُوْئِہٖ وَ حَاجَتِہٖ، فَقَالَ لِيْ:’’سَلْ‘‘۔ فَقُلْتُ:’’أَسْأَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِيْ الْجَنَّۃِ۔‘‘ قَالَ:’’أَوَ غَیْرَ ذٰلِکَ؟‘‘ قُلْتُ:ہُوَ ذَاکَ۔‘‘ قَالَ:’’فَأَعِنِّيْ عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ۔‘‘[1] ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں رات بسر کرتا تھا۔میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی [1] صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل السجود و الحث علیہ، رقم الحدیث ۲۲۶۔(۴۸۹)، ۱/۳۵۳۔