کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 43
الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ’’جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، فَقَالَ: ’’یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!إِنَّکَ لَاَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ، وَ إِنَّکَ لَاَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِيْ، وَ إِنِّيْ لَأَکُوْنُ فِيْ الْبَیْتِ، فَأَذْکُرُکَ، فَمَا أَصْبِرُ حَتّٰی آتِيَ، فَاَنْظُرَ إِلَیْکَ۔وَ إِذَا ذَکَرْتُ مَوْتِيْ وَ مَوْتَکَ، عَرَفْتُ أَنَّکَ إِذَا دَخَلْتَ الْجَنَّۃَ رُفِعْتَ مَعَ النَّبِیِّیْنَ، وَ أَنِّيْ إِذَا دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ، خَشِیْتُ أَنْ لَا أُرَاکَ۔‘‘ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ النَّبِيُّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، حَتّٰی نَزَلَ جِبْرِیْلُ علیہ السلام بِہٰذِہِ الْآیَۃِ: {وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّہَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَ}[1]،[2] ’’ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’اے اللہ کے رسول!بلاشبہ آپ مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہیں۔یقینا آپ مجھے میرے بیٹے سے زیادہ پیارے ہیں۔سچی بات ہے، کہ گھر بیٹھے آپ کی یاد آتی ہے، تو مجھے اس وقت تک چین نصیب نہیں ہوتا، جب تک آپ کی خدمتِ(عالیہ)میں حاضر ہوکر، آپ کا دیدار نہ کرلوں۔جب میں اپنی اور آپ کی موت کا تصور کرتا ہوں، تو سمجھتا ہوں کہ آپ جنت میں داخل ہونے کے بعد انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بلند مقام پر ہوں گے۔اگر میں جنت میں داخل ہوبھی گیا، تو مجھے اندیشہ ہے، کہ آپ کا دیدار نہ کرپاؤں گا۔‘‘ [1] سورۃ النسآء/جزء من رقم الآیۃ ۶۹۔ [2] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب التفسیر، سورۃ النسآء ۷/۷۔حافظ ہیثمی نے اس حدیث کے [راویوں کو ثقہ] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۷/۷)۔ ابن مردویہ، ابونعیم اور ضیاء مقدسی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور ضیاء مقدسی نے اس کے متعلق کہا ہے: ’’لَا أَرٰی بِإِسْنَادِہٖ بَأْسًا [’’میں اس کی سند میں کوئی کمزوری والی بات نہیں دیکھتا۔‘‘] (ملاحظہ ہو: حاشیہ زاد المسیر ۲/۱۲۶)۔