کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 42
ہجرت سے پلٹنے والا نہیں، بلکہ میں تو اس ہجرت پر کاربند ہوں۔جب تک زندگی ہے، تمہارے ساتھ بسر کروں گا اور مرنا بھی ہے، تو تمہارے شہر میں۔‘‘ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے یہ بات فرمائی، تو وہ رونے لگے اور معذرت کرتے ہوئے کہا: ہم نے جو کچھ کہا صرف اس غرض سے کہا، کہ آپ کی صحبت سے ہمیشہ فیض یاب ہوتے رہیں۔آپ کے ذریعے برکات حاصل کرتے رہیں اور آپ صراط مستقیم کی طرف ہماری راہنمائی فرماتے رہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {وَاِِنَّکَ لَتَہْدِیْ اِِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ}[1] [اور یقینا آپ لوگوں کو سیدھی راہ دکھلاتے رہتے ہیں۔] ان کے رونے کے دو اسباب تھے۔پہلا سبب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان، کہ میرا جینا اور مرنا انہی کے ساتھ ہے۔دوسرا سبب اس بات کا اندیشہ، کہ شاید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے متعلق کوئی ایسی بات پہنچی ہو، جو ان کے لیے باعثِ ندامت ہو۔[2] ۴:جنت میں دیدار سے محرومی کے اندیشے کی وجہ سے صحابی کی تشویش: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور سچے محب، کہ جب بھی اُن کے ذہن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنی موت کا تصور آتا، تو وہ پریشان ہوجاتے۔اُن کی پریشانی کا سبب یہ خدشہ تھا، کہ اگر وہ جنت میں داخل ہوبھی گئے، تب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور کا دیدار نہ کر سکیں گے، کیونکہ آنحضرت وہاں حضراتِ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ تشریف فرما ہوں گے اور وہ کہیں نچلے درجے میں ہوں گے۔ اُن کا قصہ امام طبرانی نے اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے درجِ ذیل [1] سورۃ الشوریٰ /جزء من رقم الآیۃ ۵۲۔ [2] ملاحظہ ہو: شرح النووي ۱۲/۱۲۸۔۱۲۹۔