کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 37
’’وَ تَنَازَعَ الْقَوْمُ أَیُّہُمْ یَنْزِلُ عَلَیْہِ …۔‘‘[1] ’’لوگوں میں اس بات پر جھگڑے کی کیفیت پیدا ہوگئی، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کا شرف کون حاصل کرے؟‘‘ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس دن کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا: ’’فَمَا رَأَیْتُ یَوْمًا قَطُّ اَنْوَرَ وَ لَا أَحْسَنَ مِنْ یَوْمِ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، وَ اَبُوْبَکْرٍ رضی اللّٰهُ عنہ الْمَدِیْنَۃَ۔‘‘[2] ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مدینہ(طیبہ)تشریف لانے والے دن سے زیادہ پُرنور اور خوب صورت دن کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ اہلِ مدینہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ طیبہ تشریف آوری کے موقع پر جو کیفیت تھی، اس کا نقشہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے ان الفاظ کے ساتھ کھینچا ہے: ’’فَمَا رَأَیْتُ أَہْلَ الْمَدِیْنَۃِ فَرِحُوْا بِشَيْئٍ فَرْحَہُمْ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔‘‘[3] ’’اہل مدینہ، جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر خوش ہوئے میں نے کسی چیز پر انہیں، اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا۔‘‘ ۳:انصار کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے محرومی کا اندیشہ: [1] المسند، جزء من رقم الحدیث ۳، ۱/۱۵۵۔شیخ احمد محمد شاکر نے اس کی [سند کو صحیح] قرار دیا۔(ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۱/۱۵۴)۔ [2] ملاحظہ ہو: الفتح الرباني لترتیب مسند الإمام احمد بن حنبل ۲۰/۲۹۰۔ [3] ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب مناقب الأنصار، باب مقدم النبي صلي اللّٰهُ عليه وسلم و أصحابہ المدینۃ، جزء من رقم الحدیث ۳۹۲۵، ۷/۲۶۰۔