کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 34
فرمایا اور قبیلہ بنوعمرو بن عوف(کے محلے)میں قیام فرمایا۔‘‘ جیسا کہ حدیث سے واضح ہے، کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے انصار کے شوق اور بے تابی کا یہ عالَم تھا، کہ ہر روز صبح سویرے استقبال کی غرض سے بستی سے باہر مقام[حرّۃ] پہنچتے اور سورج کی شدید حدّت تک وہاں بیٹھے انتظار کرتے رہتے۔ امام ابن سعد کی روایت میں ہے: ’’فَإِذَا أَحْرَقَتْہُمُ الشَّمْسُ رَجَعُوْا إِلٰی مَنَازِلِہِمْ۔‘‘[1] ’’جب سورج کی حدّت اور شدّت انہیں اذیت پہنچاتی، تو وہ اپنے گھروں کو پلٹتے۔‘‘ امام حاکم کی روایت میں ہے: ’’فَیَنْتَظِرُوْنَہٗ حَتّٰی یُؤْذِیَھُمْ حَرُّ الظَّہِیْرَۃِ۔‘‘[2] ’’دوپہر کی گرمی کے اذیت پہنچانے تک وہاں بیٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہتے۔‘‘ امام بخاری نے حضراتِ انصار کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کی کیفیت حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بایں الفاظ روایت کی ہے: ’’فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم جَانِبَ الْحَرَّۃِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَی الْأَنْصَارِ فَجَائُوْا إِلٰی نَبِيِّ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، وَ أَبِيْ بَکْرٍ رضی اللّٰهُ عنہ، فَسَلَّمُوْا عَلَیْہِمَا، وَ قَالُوْا: ’’اِرْکِبَا آمِنَیْنِ مُطَاعَیْنِ۔‘‘ فَرَکِبَ نَبِيُّ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، وَ أَبُوْبَکْرٍ- رضی اللّٰهُ عنہ -، وَ حَفُّوْا دُوْنَہُمَا [1] الطبقات الکبرٰی ۱/۲۳۳۔ [2] المستدرک علی الصحیحین، کتاب الہجرۃ، ۳/۱۱۔