کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 33
حَتّٰی یَرُدَّہُمْ حَرُّ الظَّہِیْرَۃِ۔فَانْقَلَبُوْا یَوْمًا بَعْدَمَا أَطَالُوْا انْتِظَارَہُمْ۔فَلَمَّا أَوَوْا إِلٰی بُیُوْتِہِمْ أَوْفٰی رَجُلٌ مِّنْ یَہُوْدٍ عَلٰی أُطُمٍ مِّنْ آطَامِہِمْ، لِأَمْرٍ یَّنْظُرُ إِلَیْہِ۔فَبَصُرَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم وَ أَصْحَابِہٖ مُبَیَّضِیْنَ، یَزُوْلُ بِہِمُ السَّرَابُ۔فَلَمْ یَمْلِکِ الْیَہُوْدِيُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلٰی صَوْتِہٖ: ’’یَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ!ہٰذَا جَدُّکُمُ الَّذِيْ تَنْتَظِرُوْنَ۔‘‘ فَثَارَ الْمُسْلِمُوْنَ إِلَی السَّلَاحِ۔فَتَلَقَّوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم بِظَہْرِ الْحَرَّۃِ۔فَعَدَلَ بِہِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ، حَتّٰی نَزَلَ بِہِمْ فِيْ بَنِيْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ۔‘‘[1] ’’مدینہ کے مسلمانوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے روانگی کی خبر سنی، تو ان کا یہ معمول ہوگیا، کہ ہر روز صبح کے وقت مدینہ(طیبہ)سے باہر(الحرۃ)کے مقام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے آتے۔دوپہر کے وقت سورج کی گرمی کی حدّت تک انتظار کرکے واپس چلے جاتے۔ایک دن جب کافی طویل انتظار کے بعد اپنے گھروں کو پلٹے، تو ایک یہودی نے، جو اپنے کسی کام کی غرض سے اپنے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے پر چڑھا تھا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو سفید کپڑوں میں ملبوس، دور سے آتے دیکھا۔یہو دی نے بے ساختگی کے عالَم میں اونچی آواز سے پکارا: ’’اے عرب کے لوگو!یہ تمہارے سردار، جن کا تمہیں انتظار تھا، آپہنچے۔‘‘ مسلمانوں نے اپنے ہتھیار اٹھائے اور مقامِ[الحرۃ] پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی معیت میں دائیں جانب کا رخ [1] صحیح البخاري، کتاب مناقب الأنصار، باب ہجرۃ النبي صلي اللّٰهُ عليه وسلم و أصحابہ إلی المدینۃ، جزء من رقم الحدیث ۳۹۰۶، ۷/۲۳۹۔