کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 32
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ’’زَادَ ابْنُ إِسْحَاقَ فِيْ رِوَایَتِہٖ:’’قَالَتْ عَائِشَۃُ رضی اللّٰهُ عنہا: ’’فَرَأَیْتُ أَبَا بَکْرٍ یَبْکٰي، وَ مَا کُنْتُ أَحْسَبُ أَنَّ أَحَدًا یَّبْکِيْ مِنَ الْفَرَحِ۔‘‘[1] ’’امام ابن اسحاق نے اپنی روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے:’’عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ’’میں نے دیکھا، کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ رو رہے ہیں۔اس سے پیشتر مجھے اس بات کا تصور نہ تھا، کہ خوشی اور مسرت کی وجہ سے بھی، کوئی روتا ہے۔‘‘ ۲:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر انصار کی مسرت: حضراتِ انصار رضی اللہ عنہم نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف، ہجرت کی غرض سے، روانگی کی خبر سنی، تو وہ انتہائی شوق اور بے تابی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا انتظار کرنے لگے۔حدیث اور سیرت کی کتابوں میں ان کی اس بے تابی، شوق اور آپ کی تشریف آوری پر مسرت اور شادمانی کا تذکرہ تفصیل سے موجود ہے۔اس کے متعلق ذیل میں چند روایات ملاحظہ فرمائیے: ’’وَ سَمِعَ الْمُسْلِمُوْنَ بِالْمَدِیْنَۃِ مَخْرَجَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم مِنْ مَّکَّۃَ، فَکَانُوْا یَغْدُوْنَ کُلَّ غَدَاۃٍ إِلَی الْحَرَّۃِ، فَیَنْتَظِرُوْنَہٗ [1] فتح الباري ۷/۲۳۵۔نیز ملاحظہ ہو: السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ۲/۹۳۔