کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 26
مَنْ لَا فَلَا۔وَ لَیْسَ ذٰلِکَ مَحْصُوْرًا فِی الْوُجُوْدِ وَ الْفَقْدِ، بَلْ یَأْتِيْ مِثْلُہٗ فِيْ نُصْرَۃِ سُنَّتِہٖ وَ الذَّبِّ عَنْ شَرِیْعَتِہٖ، وَ قَمْعِ مُخَالِفِیْہَا۔ وَ یَدْخُلُ فِیْہِ بَابُ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّہْيِ عَنِ الْمُنْکَرِ۔‘‘ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے، کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ممکن ہو اور کسی کو یہ موقع دیا جائے، کہ وہ دنیوی سازوسامان میں سے کسی چیز کے نہ لینے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے محروم رہنے میں سے ایک بات کو پسند کرلے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بے نصیب رہنا، اس پر کسی بھی چیز کے نہ پانے سے زیادہ گراں اور بھاری ہو۔اگر کسی کی یہ کیفیت نہ ہو، تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے محروم ہے۔ علاوہ ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اُن کی زیارت کے حصول اور اس سے محروم ہونے تک ہی محدود نہیں، بلکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی حمایت و تائید، آپ پر نازل کردہ شریعت کا دفاع اور اس کے مخالفوں کی سرکوبی شامل ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی اس میں داخل ہے۔‘‘[1] ۳:علامہ عینی تحریر کرتے ہیں: ’’وَ اعْلَمْ أَنَّ مُحَبَّۃَ الرَّسُوْلِ علیہ السلام إِرَادَۃُ فِعْلِ طَاعَتِہٖ، وَ تَرْکُ مُخَالَفَتِہٖ، وَ ہِيَ مِنْ وَاجِبَاتِ الْإِسْلَامِ۔‘‘ [1] فتح الباري ۱/۵۹۔