کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 25
مبحث سوئم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی علامتیں تمہید: علمائے امت نے قرآن و سنت کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی علامتوں کو بیان فرمایا ہے۔ذیل میں تین علماء کے بیانات ملاحظہ فرمائیے: ۱:قاضی عیاض لکھتے ہیں: ’’وَ مِنْ مُّحَبَّتِہٖ صلي اللّٰهُ عليه وسلم نُصْرَۃُ سُنَّتِہٖ، وَ الذَّبُّ عَنْ شَرِیْعَتِہٖ، وَ تَمَنِّيْ حَضُوْرَ حَیَاتِہٖ فَیَبْذُلُ نَفْسَہٗ وَ مَالَہٗ دُوْنَہٗ۔‘‘[1] ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی نصرت و تائید کرنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ شریعت کا دفاع کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے وقت اُن پر اپنی جان و مال فدا کرنے کی غرض سے، موجود ہونے کی تمنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سے ہے۔‘‘ ۲:حافظ ابن حجر نے تحریر کیا ہے: ’’وَ مِنْ عَلَامَۃِ الْحُبِّ الْمَذْکُوْرِ:أَنْ یُعْرَضَ عَلَی الْمَرْئِ أَنْ لَوْ خُیِّرَ بَیْنَ فَقْدِ غَرْضٍ مِنْ أَغْرَاضِہٖ أَوْ فَقْدِ رُؤْیَۃِ النَّبِيِّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، أَنْ لَوْ کَانَتْ مُمْکَنَۃً۔ فَإِنْ کَانَ فَقْدُہَا أَنْ لَوْ کَانَتْ مُمْکَنَۃً أَشَدَّ عَلَیْہِ مِنْ فَقْدِ شَيْئٍ مِنْ أَغْرَاضِہٖ، فَقَدْ اتَّصَفَ بِالْأَحَبِّیَۃِ الْمَذْکُوْرَۃِ، وَ [1] بحوالہ: شرح النووي ۲/۱۶۔