کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 22
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’بے شک تو اسی کے ساتھ ہے، جس کے ساتھ تو نے محبت کی۔‘‘ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:’’ہمیں اسلام لانے کے بعد کسی بات سے اتنی زیادہ مسرت نہ ہوئی، جتنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ گرامی: [فَإِنَّکَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ]۔ ’’[بے شک تو اسی کے ساتھ ہے:جس کے ساتھ تو نے محبت کی] سے ہوئی۔‘‘ انس رضی اللہ عنہ نے مزید کہا:’’میں اللہ تعالیٰ، ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے، کہ میں(آخرت میں)انہی کے ساتھ ہوں گا، اگرچہ میں نے ان کے برابر اعمال نہیں کیے۔‘‘ ’’یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!کَیْفَ تَقُوْلُ فِيْ رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا، وَ لَمْ یَلْحَقْ بِہِمْ؟۔‘‘ ’’اے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، جو کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس نے اتنے نیک اعمال نہیں کیے، جتنے انہوں نے کیے ہیں؟‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ۔‘‘[1] ’’آدمی اسی کے ساتھ ہے، جس کے ساتھ اس نے محبت کی۔‘‘ [1] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الأدب، باب علامۃ الحب في اللّٰہ، رقم الحدیث ۶۱۶۹، ۱۰/۵۵۷؛ و صحیح مسلم، کتاب البر و الصلۃ و الآداب، باب المرء مع من أحب، رقم الحدیث ۱۶۵-(۲۶۴۰)، ۴/۲۰۳۴۔الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔