کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 13
علامہ عینی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قولِ مبارک[’’لَا، وَ الَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ!حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْکَ مِنْ نَّفْسِکَ‘‘] کی شرح میں لکھتے ہیں:تیرا ایمان اس وقت تک کامل نہ ہوگا، یہاں تک، کہ میں تیرے نزدیک تیری جان سے بھی زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں۔[1] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ مبارک[’’اَ لْآنَ یَا عُمَرُ‘‘] کی شرح میں علامہ عینی ہی تحریر کرتے ہیں:یعنی تمہارا ایمان اب کامل ہوا۔[2] مذکورہ بالا حدیث میں دیگر باتوں کے علاوہ ایک انتہائی قابلِ توجہ بات یہ ہے، کہ صادق و امین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر بیان فرمایا، کہ ایمان کی تکمیل کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بندے کو، اپنی جان سے زیادہ محبوب و عزیز ہونا ضروری ہے۔آنحضرت کی ذاتِ گرامی اس درجہ رفیع المرتبت ہے، کہ قسم نہ بھی کھائیں، تب بھی اُن کی ہر بات ٹھیک اور شبہ سے بلند و بالا ہے۔پھر جب کوئی بات قسم کھا کر فرمادیں تو وہ بات کتنی زیادہ پختہ ہوگی، کیونکہ معلوم ہے، کہ قسم کھانا کلام کی پختگی پر دلالت کرتا ہے۔[3] ۲:والد اور بیٹے سے بھی زیادہ محبت کرنے کی فرضیت: ہر مسلمان پر فرض ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نزدیک اپنے والد اور اولاد سے بھی زیادہ پیارے ہوں۔درجِ ذیل حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے: امام بخاری حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’فَوَ الَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ!لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ [1] ملاحظہ ہو: عمدۃ القاریٔ ۲۳/۱۶۹۔ [2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲۳/۱۶۹۔ [3] ملاحظہ ہو: عمدۃ القاري ۱/۱۴۳۔