کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 116
کہو):’’مَا شَائَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ‘‘(وہ ہوگا، جو تنہا اللہ تعالیٰ پسند کریں گے۔‘‘) (iii)اسی طرح جب دو بچیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں یہ کہا: ’’ہم میں وہ نبی ہیں جو آنے والے کل کی باتوں کو جانتے ہیں،‘‘ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو ایسی بات کہنے سے روک دیا۔ امام ابن ماجہ حضرت رُبَیَّع بنت مُعَوِّذ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے کہا: ’’میری شادی کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(ہمارے ہاں)تشریف لائے۔ میرے پاس دو ننھی بچیاں جنگ بدر میں قربان ہونے والے میرے رشتہ داروں کے بارے میں اشعار پڑھ رہی تھیں۔اسی دوران انہوں نے کہا: ’’وَ فِیْنَا نَبِیٌّ یَّعْلَمُ مَا فِيْ غَدٍ۔‘‘ (ہم میں ایک ایسے نبی ہیں، جو کل کو ہونے والی بات سے آگاہ ہیں)، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’أَمَّا ہٰذَا، فَلَا تَقُوْلُوْہُ۔مَا یَعْلَمُ مَا فِيْ غَدٍ إِلَّا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔‘‘[1] ’’جہاں تک اس(بات)کا تعلق ہے، تو یہ مت کہو۔جو کچھ کل ہوگا، اُسے اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘ صحیح بخاری کی روایت میں ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دَعِيْ ہٰذَا، وَ قُوْلُوْا بِالَّذِيْ تَقُوْلِیْنَ۔‘‘[2] ’’اسے چھوڑو(یعنی ایسی بات نہ کہو۔اس سے پہلے)، جو بات کہہ رہی تھی، وہ ہی کہتی جاؤ۔‘‘ [1] سنن ابن ماجہ، أبواب النکاح، الغناء و الدف، رقم الحدیث ۱۹۰۴، ۱/۳۵۰۔شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابن ماجہ ۱/۳۲۰)۔ [2] صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب ضرب الدُّفِّ في النکاح و الولیمۃ، جزء من رقم الحدیث ۵۱۴۷، ۹/۲۰۲۔