کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 111
پھر انہوں نے دعا کی: ’’اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِيْ الشَّہَادَۃَ بِنَصْرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْفَتْحِ عَلَیْہِمْ۔‘‘ ’’اے میرے اللہ!میری شہادت کے ساتھ مسلمانوں کو نصرت اور اُن پر فتح نصیب فرمائیے۔‘‘ ’’فَأَمَّنَ الْقَوْمُ، فَکَانَ النُّعْمَانُ أَوَّلَ صَرِیْعٍ۔‘‘ لوگوں نے اُن کی دعا پر آمین کہی: اور نعمان رضی اللہ عنہ مسلمانوں میں سب سے پہلے قتل کیے گئے۔[1] جَعَلَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنَ الشُّہَدَائِ۔(اللہ تعالیٰ انہیں شہیدوں میں شامل فرمائیں)۔آمِیْنَ یَا حَيُّ یَا قَیُّوْمُ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے، کہ انہوں نے کہا: ’’اَللّٰہُمَّ اعْزِزْ دِیْنَکَ، وَ انْصُرْ عِبَادَکَ، وَ اجْعَلِ النُّعْمَانَ أَوَّلَ شَہِیْدٍ الْیَوْمَ إِعْزَازَ دِیْنِکَ وَ نَصْرَ عِبَادِکَ۔‘‘[2] ’’اے میرے اللہ!اپنے دین کو سربلند فرمائیے۔اپنے بندوں کی مدد فرمائیے۔اپنے دین کی سرفرازی اور بندوں کی نصرت کے لیے نعمان کو پہلا شہید بنائیے۔‘‘] کتنی عظیم اور شان والی ہے یہ دعا!ایسی دعا کی سعادت ہرکس و ناکس کو تو نصیب نہیں ہوتی۔صبر کرنے والے اور بڑے نصیب والے ہی اس سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں: {وَمَا یُلَقَّاہَا اِِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَمَا یُلَقَّاہَا اِِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیْمٍ}[3] ۹:اللہ تعالیٰ کی راہ میں جانیں فدا کرنے کی خاطر مسلمانوں کا اشتیاق: چوتھی علامت کے بارے میں اپنی گفتگو کا اختتام حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی [1] تاریخ الإسلام۔(عہد الخلفاء الراشدین) ص ۲۲۵۔نیز ملاحظہ ہو: الکامل في التاریخ ۳/۵۔ [2] ملاحظہ ہو: الکامل في التاریخ ۳/۵۔ [3] سورۃ حٰم السجدۃ / الآیۃ ۳۵۔[ترجمہ: اور یہ بات اُنہی کو نصیب ہوتی ہے، جنہوں نے صبر کیا اور اُسے سوائے بہت بڑی قسمت والوں کے اور کوئی نہیں پاتا]۔