کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 110
[اَللّٰہُ اَکْبَرُ] کہہ رہے ہیں۔اُن کی یہ کیفیت دیکھ کر لوگوں میں جوش پیدا ہوا اور وہ اتنی بڑی تعداد میں قلعے کی دیوار پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی طرف لپکے، کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو انہیں روکنا پڑا، کہ کہیں سیڑھی اُن کی کثرت کی وجہ سے ٹوٹ نہ جائے۔ جب زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے قلعے کے اندر داخل ہوکر بیک زبان نعرۂ تکبیر بلند کیا اور قلعے کے باہر والوں نے بھی اُن کے جواب میں نعرۂ تکبیر بلند کیا، تو اہلِ قلعہ کو یقین ہوگیا، کہ سارے مسلمان قلعے کے اندر گھس چکے ہیں اور انہوں نے راہِ فرار اختیار کرنے ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔ زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی قلعے کے دروازے کی طرف بڑھے اور اس کو اندر سے کھول دیا۔مسلمان قلعے کے اندر داخل ہوگئے۔‘‘[1] رَضِيَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ وَأَرْضَاھُمْ۔(اللہ تعالیٰ اُن سرفروشوں پر راضی ہو جائیں اور وہ انہیں خوش کردیں)۔وہ دینِ حق کی محبت اور اس کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کرنے میں کس قدر سچے تھے! ۸:نُعمَان بن مُقَرِّن رضی اللہ عنہ کی اپنی شہادت کے ساتھ مسلمانوں کی فتح کی دعا: معرکۂ نہاوند میں ہم دیکھتے ہیں، کہ ایک اور سچا محب دعا کرتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ اس کی شہادت کے ساتھ مسلمانوں کو فتح دے۔حافظ ذہبی نے ذکر کیا ہے: ’’جب معرکۂ نہاوند میں دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں، تو نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’إِنْ قُتِلْتُ فَلَا یَلْوِيْ عَلَيَّ أَحَدٌ، وَ إِنِّيْ دَاعٍ بِدَعْوَۃٍ فَأَمِّنُوْا۔‘‘ ’’اگر میں قتل ہوگیا، تو کوئی میری طرف پلٹ کر نہ دیکھے۔میں ایک دعا کرنے لگا ہوں، تم میری اس دعا پر آمین کہنا۔‘‘ [1] فتوح مصر وأخبارھا ص ۵۲۔