کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 109
نے وہیں اپنی جانوں کو نچھاور کردیا۔‘‘[1]رَضِيَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ وَ أَرْضَاہُمْ۔ ۷:دشمن کے بڑے قلعے کا دروازہ کھولنے کے لیے زبیر رضی اللہ عنہ کا اوپر چڑھنا: اسلام کی خاطر فداکاری اور جانثاری کا جو نمونہ معرکۂ یمامہ میں حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہما نے پیش کیا، وہی نقشہ سرزمینِ مصر میں ایک اور سچے محب حضرت زبیر اور ان کے ساتھیوں رضی اللہ عنہم نے پیش کیا۔قربانی اور سرفروشی کی ان مثالوں کی باہمی مشابہت میں تعجب اور حیرانی کی کوئی بات نہیں، کیونکہ وہ سب ایک ہی مدرسے کے تربیت یافتہ اور ایک ہی محبوب کے چاہنے والے تھے۔وہ مدرسہ ہے، مدرسہ محمدیہ اور اُن سب کے محبوب ہیں، قائد المرسلین محبوب ربِ العالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ امام ابن عبد الحکم نے حضرت زبیر اور ان کے رفقا رضی اللہ عنہم کی سرفروشی کے اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے: ’’جب عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ [2]کو فتحِ(مصر)میں تاخیر ہوئی، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’إِنِّيْ أَہَبُ نَفْسِيْ لِلّٰہِ، وَ أَرْجُوْ أَنْ یُفْتَحَ بِذٰلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ۔‘‘ ’’میں اپنی جان کا نذرانہ اللہ تعالیٰ کے لیے پیش کرتا ہوں اور اُمید رکھتا ہوں، کہ اس سے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی۔‘‘ پھر انہوں نے کبوتروں والے بازار کی جانب سے قلعے کے ساتھ سیڑھی لگائی اور قلعے کے اوپر چڑھ گئے اور مسلمانوں کو حکم دیا، کہ جب وہ اُن کی تکبیر سنیں، تو اُس کے جواب میں وہ بھی[اَللّٰہُ اَکْبَرُ] کہیں۔ یکایک لوگوں نے دیکھا، کہ زبیر رضی اللہ عنہ قلعے کی دیوار کے اوپر ہاتھ میں تلوار تھامے [1] البدایۃ والنہایۃ ۷/۱۱۔۱۲۔نیز ملاحظہ ہو: تاریخ الطبري ۳/۴۰۱؛ و الکامل في التاریخ ۲/۲۸۳۔ [2] حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اس وقت سرزمینِ مصر میں جہاد کرنے والی اسلامی فوج کے امیر تھے۔