کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 107
دشمن مسیلمہ کذّاب بھی اسی باغ میں تھا۔براء رضی اللہ عنہ نے آواز دی: ’’یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ!أَلْقُوْنِيْ عَلَیْہِمْ فِيْ الْحَدِیْقَۃِ۔‘‘ ’’اے مسلمانو!مجھے اُن پر باغ میں ڈال دو۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے:’’انہوں نے کہا: ’’یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ!اِرْمُوْنِيْ عَلَیْہِمْ فِيْ الْحَدِیْقَۃِ۔‘‘ ’’اے مسلمانو!مجھے باغ میں اُن پر پھینک دو۔‘‘ لوگوں نے کہا: ’’لَا تَفْعَلْ یَا بَرَائُ!‘‘ ’’اے براء!ایسے نہ کرو۔‘‘ انہوں نے جواب میں کہا: ’’وَ اللّٰہِ!لَتَطْرَحُنِّيْ عَلَیْہِمْ فِیْہَا۔‘‘ ’’اللہ تعالیٰ کی قسم!تم مجھے ضرور باغ میں اُن پر پھینکو گے۔‘‘ انہیں اٹھایا گیا، یہاں تک کہ وہ دیوار پھلانگ کر باغ کے اندر داخل ہوگئے۔پھر مسیلمہ کذّاب کے ساتھیوں کے ساتھ لڑتے لڑتے باغ کے دروازے تک پہنچے اور اس کو مسلمانوں کے لیے کھولنے میں کامیاب ہوگئے۔مسلمانوں نے باغ کے اندر داخل ہوکر ان سے جنگ کی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسیلمہ کذّاب کو ان کے ہاتھوں ہلاک کردیا۔[1] اللہ اکبر!حضرت براء رضی اللہ عنہ نے رب عزوجل کی راہ میں اپنی قیمتی جان کو کس قدر ارزاں کیا! [1] تاریخ الطبري ۳/۲۹۰۔نیز ملاحظہ ہو: الکامل في التاریخ ۲/۲۴۶۔