کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 105
الْقَصَّۃِ۔‘‘ ’’میرے باپ ہاتھ میں برہنہ تلوار لیے ہوئے، اپنی سواری پر ذی القَصَّہ[1] کی طرف روانہ ہوئے۔‘‘ جب اُن کے سامنے یہ تجویز پیش کی گئی، کہ وہ کسی کو اپنا نائب نامزد کرکے، مرتدین کے خلاف جہاد کے لیے روانہ کردیں اور خود مدینہ طیبہ ہی میں تشریف رکھیں، تو انہوں نے بایں الفاظ اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے جواب دیا: ’’لَا، وَ اللّٰہِ!لَا أَفْعَلُ، وَ لَأُوَاسِیَنَّکُمْ بِنَفْسِيْ۔‘‘[2] ’’نہیں، اللہ تعالیٰ کی قسم!میں ایسے نہیں کروں گا۔میں اپنی جان کے ساتھ تمہاری اعانت کروں گا۔‘‘ سچا محب اس بات کو کیسے گوارا کرسکتا ہے، کہ جس دینِ حق کو اُس کے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے، وہ تو اُسے آوازیں دے رہا ہو اور وہ چین سے بیٹھا رہے؟ شریعتِ اسلامیہ کی مدد کی پکار کانوں میں پڑنے کے بعد وہ کس طرح دشمنوں کے مقابلے میں نکلنے سے گریز کرسکتا ہے؟ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس اقدام کے مقابلے میں ہماری کیفیت کیا ہے؟ کیا ہم دینِ حق کی مشرق و مغرب سے آنے والی چیخ و پکار کو نہیں سُن رہے؟ کیا شریعتِ اسلامیہ کی دنیا کے گوشے گوشے سے اُٹھنے والی صدائیں ابھی تک ہمارے بے حس کانوں سے گزر کر، ہمارے نیم مردہ یا اُس سے بھی زیادہ، مردہ دلوں تک نہیں پہنچیں؟ اس پکار پر لبیک کہنے والے کتنے لوگ ہیں؟ [1] (ذي القَصَّۃ): یہ جگہ مدینہ سے رَبَذہ کی جانب چوبیس میل کے فاصلے پرواقع ہے۔(ملاحظہ ہو: معجم البلدان، رقم ۹۷۲۰، ۴/۴۱۶)۔ [2] تاریخ الطبري ۳/۲۴۷۔نیز ملاحظہ ہو: الکامل في التاریخ ۲/۲۳۳؛ و البدایۃ والنہایۃ ۶/۳۰۴-۳۰۵۔