کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 104
دیا گیا تھا۔پھر اسی مقام پر حملہ کرو، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حملہ کرنے کا حکم دیا۔‘‘ اور ربِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم!حبیبِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی اور سچی محبت تو یہی ہے، کہ ان کے ارشادات کے مطابق دین کے دفاع اور کلمۃ اللہ کی سربلندی کی خاطر، جہاد کے لیے نکلا جائے۔ ۴:سنگین حالات کے باوجود مانعینِ زکوٰۃ اور مرتدین کے خلاف جہاد: جب مانعینِ زکوٰۃ کا معاملہ درپیش آتا ہے، تو ہم دیکھتے ہیں، کہ حالات کی ناسازگاری کے باوجود، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے والے جناب صدیق رضی اللہ عنہ، اُن کے خلاف جہاد کے متعلق اپنے پختہ ارادے اور ٹھوس عزم کا اظہار درجِ ذیل الفاظ کے ساتھ فرماتے ہیں: ’’وَ اللّٰہِ!لَوْ مَنَعُوْنِيْ عِقَالًا کَانُوْا یُؤَدُّوْنَہٗ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم لَقَاتَلْتُہُمْ عَلٰی مَنْعِہٖ۔‘‘[1] ’’اللہ کی قسم!اگر انہوں نے مالِ زکوٰۃ کی ایک رسّی بھی روکی، جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے، تو میں اس ایک رسّی کے حصول کی خاطر بھی، اُن کے خلاف جہاد کروں گا۔‘‘ پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بعض مرتد قبائل کے مدینہ طیبہ پر حملے کے ارادے کی خبر ہوئی، تو خود تلوار سونتے ہوئے اُن کے مقابلے کے لیے نکلے۔اس سلسلے میں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ’’خَرَجَ أَبِيْ شَاہِرًا سَیْفَہٗ رَاکِبًا رَاحِلَتَہٗ إِلٰی ذِيْ [1] صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب الأمر بقتال الناس حتی یقولوا …، جزء من رقم الحدیث ۳۳-(۳۰)، ۱/۵۲۔