کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 100
۳:صدیق رضی اللہ عنہ کا حالات کی سنگینی کے باوجود جیشِ اسامہ رضی اللہ عنہ روانہ کرنا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد حضرات صحابہ کو انتہائی سنگین اور کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔عرب کے قبائل مرتد ہوگئے اور انہوں نے مرکزِ اسلام مدینہ طیبہ پر حملے کا ارادہ کیا۔اُس وقت …بقول حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما … حضراتِ صحابہ ایسی بکریوں کی مانند تھے، جن کا چرواہا نہ رہا ہو اور مدینہ طیبہ اپنے باسیوں پر اس قدر تنگ ہوچکا تھا جس طرح انگوٹھی اپنے پہننے والے کی انگلی میں تنگ ہوجاتی ہے۔ ایسے نازک اور مشکل حالات میں لشکرِ اسامہ رضی اللہ عنہ روانہ کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔اس لشکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ سے دور رومیوں کے علاقے میں ان سے جہاد کرنے کے لیے تیار کیا تھا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید بیماری اور پھر انتقال کی وجہ سے یہ لشکر کوچ نہ کرسکا تھا۔[1] ان پُرخطر اور نازک حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ سچے محب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا موقف کیا تھا؟ اس کا جواب امام طبری کی عاصم بن عدی کے حوالے سے نقل کردہ روایت میں ہے۔انہوں نے بیان کیا: ’’نَادٰی مُنَادِيْ أَبِيْ بَکْرٍ رضی اللّٰهُ عنہ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ مِنْ مُتَوَفّٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم: ’’لِیُتِمَّ بَعْثُ أُسَامَۃَ رضی اللّٰهُ عنہ۔لَا یَبْقِیَنَّ بِالْمَدِیْنَۃِ أَحَدٌ مِنْ جُنْدِ أُسَامَۃَ إِلَّا خَرَجَ إِلٰی عَسْکَرِہٖ بَالْجُرْفِ۔‘‘ [1] ملاحظہ ہو: السیرۃ النبویۃ لابن حبان البستی، ص ۴۲۸۔