کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 87
ثابت ہوئی۔(طبری۔ج۱۔غزو ۂ خندق) (۳) جنگی چالیں یا خدع فی الحرب: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : «اَلْحَرْبُ خُدْعَةٌ» (بخاری۔کتاب استتابة المرتدین) (یعنی جنگ چالوں سے لڑی جاتی ہے۔) تو یہاں خدعۃٌ سے مراد بدعہدی یا اخلاقی اقدار کو پامال کر کے اپنے مقصد کا حصول نہیں۔بلکہ اس سے مراد ’’دا ؤ اور تدبیر‘‘ ہے۔جیسے دو پہلوانوں کی کشتی میں ایک پہلوان کوئی انوکھا دا ؤ کھیل کر دوسرے کو پچھاڑ دیتا ہے۔تو اس کے دا ؤ یا تدبیر کو دھوکا اور فریب پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔بس بالکل یہی مثال ان جنگی تدابیر کی ہوتی ہے۔جنہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خُدْعَۃٌ[1] کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔اب اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں: (۱) میدان جنگ میں صف بندی اس طرح کی جائے کہ دشمن کو اپنے حریف کی تعداد اصلی تعداد سے بہت زیادہ نظر آئے۔یہ خدعۃ یا جنگی چال تو ہے۔لیکن اسے مکرو فریب کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ (۲) آج کل فوج کی وردی کا رنگ عموماً خاکی تجویز کیا جاتاہے۔جو ہم رنگ زمین ہے۔اور اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ دشمن کے ہوائی جہاز فوج کی نقل و حرکت سے آگاہ نہ ہو سکیں۔یہ بھی خدعۃٌ کی تعریف میں آتا ہے۔اس طریق سے کسی چیز کی ہیئت تبدیل کر دی جاتی ہے۔لیکن دشمن سے مکرو فریب کا اسے نام نہیں دیا جاسکتا ۔ (۳) اسی طرح آج کل فوج اگر کہیں پڑا ؤ ڈالنا چاہے تو اپنے خیموں کے اوپر درختوں کی شاخیں رکھ دیتی ہے۔جسے کیمو فلاج (Camou Falge) کہتے ہیں۔اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دشمن کے جہاز اس مقام کو عام جنگل ہی تصور کریں اور فوج کی نقل و حرکت سے بے خبر رہیں۔یہ خدعۃ ہے۔ غرض اس طرح کی بیشمار تدابیر جنگ میں اختیار کی جاتی ہیں۔کمین گاہوں میں بیٹھنا‘ [1] خدعۃ کا مادہ خدع ہے جس کا معنی دھوکا اور مکرو فریب ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افصح العرب و العجم ہونے کی حیثیت سے خدعۃٌ کی اصطلاح خود وضع فرمائی جس کے معنی چالیں اور دا ؤ ہے نہ کہ دھوکا فریب ۔