کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 78
تشریف لے گئے۔گویا اب مسلمان فوج کا مرکز و محور یہ مقام تھا۔یہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکستہ دل اور بد حواس فوج کو پکار پکار کر بلایا اور بکھری ہوئی فوج پھر جمع ہوگئی۔اور مسلمان شکست سے بچ گئے۔ (۴) اقدام: معرکہ کار زار میں اقدام کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب فتح و شکست کا کوئی فیصلہ نہ ہو رہا ہو تو کوئی ایک فوج پوری قوت سے دشمن کے قلب پر حملہ کر کے اسے پسپائی پر مجبور کر دے۔آپ نے جنگ احد کے موقع پر یہی تدبیر استعمال کی اور کفارِ قریش فتح و شکست کا فیصلہ ہوئے بغیر واپس چلے گئے تھے۔چنانچہ راستہ میں ابو سفیان سپہ سالار قریش کو یہ خیال آیا کہ کام تو ادھورا رہ گیا ۔واپس مڑ کر حملہ کرناچاہیے ادھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایسا ہی خیال آیا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے تعاقب کا فیصلہ کر لیا ‘اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرمایا کہ :۔ ﴿ وَلَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَاۗءِ الْقَوْمِ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْ لَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ يَاْ لَمُوْنَ كَمَا تَاْ لَمُوْنَ ۚ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ ۭ ﴾ (۴:۱۰۴) (اور دشمن کا پیچھا کرنے میں کمزوری نہ دکھا ؤ ۔اگر تمہیں دکھ پہنچا ہے تو انہیں بھی تو دکھ پہنچا ہے جیسے تمہیں پہنچا ہے پھر تم اللہ تعالیٰ سے ایسی امیدیں بھی (جنت و انعام) رکھتے ہو وجو وہ نہیں رکھتے۔) چنانچہ دوسرے دن آپ زخموں سے چو ر ستر صحابہ کی معیت[1] میں تعاقب کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔اور مدینہ سے آٹھ میل دور ایک مقام حمراء الاسد پر جا کر ڈیرہ ڈالا۔ اور تین دن قیام فرمایا ۔ اس تعاقبی سفر کو غزوہ حمراء الاسد کا نام دیا جاتا ہے۔حالانکہ یہاں قطعاً جنگ نہیں ہوئی۔ہوا یہ تھا کہ ابو سفیان کا لشکر روحا کے مقام پر پڑا ؤ ڈالے مسلمانوں پر مڑ کر حملہ کر کے سارا قصہّ پاک کرنے کی تیاری کررہا تھا۔انہیں ایک شخص معبد خزاعی ملا۔جو ابھی تک مسلمان نہیں ہو اتھا لیکن مسلمانوں کاخیر خواہ ضرور تھا۔اس سے ابو سفیان نے مسلمانوں کی کیفیت پوچھی تو کہنے لگا کہ ’’محمد اایک بہت بھاری لشکر لے کرتمہاری تلاش میں چڑھے آرہے ہیں۔اب ان میں وہ لوگ بھی شامل ہوگئے ہیں۔جو میدانِ جنگ میں موجود نہ تھے۔اور انہیں اس موقع کے ضائع ہو جانے کا بہت افسوس ہے۔‘‘ (طبری ج۱ غزوہ احد) [1] بخاری۔کتاب المغازی۔باب الذین استجابو اللہ وللرسول