کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 75
اور تیسری تدبیر یہ تھی کہ اس خیمہ کے پاس چند سواری کے جانور رکھے گئے۔ایک طرف کفار مکہ کا ایک ہزار کا لشکر جو آلاتِ حرب و ضرب سے پوری طرح مسلح تھا خوراک وافر تھی۔ہر روز دس اونٹ ذبح کیے جاتے اور شراب کا بھی دور چلتا تھا۔دوسری طرف تین سو تیرہ مسلمان (تہائی سے بھی کم) اور وہ بھی نہتے‘ کمزور اور سامانِ خوراک سے بھی عاجز۔اندریں حالات جنگ کے دوران کسی وقت بھی مسلمان فوج کے پا ؤ ں اکھڑ جانے کا اندیشہ ایک فطری امر تھا خیمہ کے پاس سواریاں اس لیے رکھ لی گئیں کہ خدانخواستہ اگر ایسی صورت پیدا ہو تو مدینہ سے فوری طور پر کمک مہیا کی جاسکے۔[1] (۲) صف بندی اور طریق جنگ: مسلمان صف بندی کا طریق تو نماز سے ہی سیکھ چکے تھے۔تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدانِ بدر میں اس کا بالخصوص اہتمام کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھڑی لے کر خود مسلمانوں کی صفوں کو درست اور سیدھا کر رہے تھے۔صف بندی قریش مکہ نے بھی کی تھی۔لیکن ان میںایسا نظم و ضبط ہرگز نہ تھا۔دوسرا اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کہ مسلمانوں کی اس انداز سے صف بندی کی کہ وہ اپنی اصل تعداد سے کئی گنا زیادہ نظر آرہے تھے۔قرآن کریم نے اس منظر کا نقشہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے:۔ ﴿فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰى كَافِرَةٌ يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَاْيَ الْعَيْنِ ﴾ (۳:۱۳) (ایک گروہ ا للہ کی راہ میں لڑرہا تھا۔دوسرا کفار کا گروہ تھا۔جو مسلمانوں کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا۔) صف بندی کی اصل غرض وغایت یہ ہوتی ہے کہ اگر کسی خاص مقام پر دشمن کے حملہ کادبا ؤ بڑھ جائے تو فوج کا آپس میں رابطہ منقطع نہ ہونے پائے۔صف بندی کے دوران حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو بالخصوص ملحوظ رکھا تھا۔ صف بندی کے علاوہ مورچہ بندی‘ مورچوں کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب ‘ ان میں مناسب افراد کا تعین‘ یہ سب امور سپہ سالار کی صوابدید پر منحصر ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جنگ احد کا نقشہ ان الفاظ میں پیش فرماتے ہیں: [1] طبری ج ۱ غزوۂ بدر