کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 62
یہ تمام احادیث ایسی ہیں جن سے عورتوں کی میدان جنگ میں محض شمولیت ثابت ہوتی ہے۔ لیکن درج ذیل حدیث اس کے ایک اور پہلو پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔حشرج بن زیاد صاپنی دادی سے روایت کرتے ہیں: ((اَنَّهَا خَرَجَتْ فِیْ غَزْوَةِ خَیْبَرَ نِسْوَة فَبَلَغَ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلیَّ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ اِلَیْنَا فَجِئْنَا فَرَاَیْنَا فِیْهِ الْغَضَبَ فَقَالَ: بِمَعَ مَنْ خَرَجْتُنَّ وَبِاِذْنِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟ فَقُلْنَا۔یَارَسُوْلَ اللّٰهِ خَرَجَنَا نَغْزِلُ الشَّعْرَ وَنُعِیْنُ بِه فِیْ سَبِیْلِ اللَّهِ وَمَعَنَا دَوَاء لِلْجُرْجیٰ وَنَنَاوِلُ السِّهَام وَ نُسْقِ السَّوِیْقَ۔ فَقَالَ قُمْنَ‘‘- حَتیّٰ اِذَا فَتَحَ اللّٰه عَلَیْهِ خَیْبَر اَسْهَمَ لَنَا کَمَا اَسْهَمَ لِلرِّجَالِ۔ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا: یَاجَدَّةُ: وَمَا کَانَ ذٰلِكَ؟ قَالَتْ تَمْرًا‘‘۔ )) (ابو دا ؤ د کتاب الجهاد۔ باب فی المراة والعبد یخدمان من الغنیمة) ( غزوہ خیبر میں ہم کچھ عورتیں بھی جہاد کے لیے ساتھ ہو لیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلا بھیجا۔ ہم گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’تم کس کے ساتھ آئیں اور کس کے حکم سے آئیں‘‘؟ ہم نے کہا یا رسول اللہا! ہم سوت کاتتی رہیں تاکہ اس کی اجرت سے اللہ کی راہ میں مدد کر سکیں ہمارے پاس زخمیوں کے لئے دوائیں ہیں۔ اور ہم تیر اٹھا اٹھا کر لائیں گی اور پیاسوں کو ستو پلائیں گی‘‘۔ حضورا نے فرمایا۔ ’’ اچھا ٹھہری رہو‘‘۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ خیبر فتح کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کی طرح ہمارا بھی (مال غنیمت سے) حصہ نکالا۔ راوی کہتا ہے میں نے کہادادی یہ حصہ کیا تھا؟ اس نے کہا ’’کھجوریں‘‘۔ ) مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں میدان جنگ میں مندرجہ ذیل خدمات سرانجام دے سکتی ہیں: (۱) زخمیوں[1] کی تیمارداری۔ مرہم پٹی‘ زخمیوں اور بیماروں کو پیچھے محفوظ مقامات تک [1] زخمیوں کی مرہم پٹی اور بیماروں کی تیمار داری میں عورتیں اپنی نرم طبعی کی بنا پر مردوں سے عموماً زیادہ مفید ثابت ہوتی ہیں- اور شائد وہ اس معاملہ میں مردوں سے دلچسپی بھی زیادہ رکھتی ہیں-غزوۂ بنو قریہ میں قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ تیر سے شدید زخمی ہو گئے- زخم سے خون تھمتا نہ تھا- ایک عورت رفیدہ نامی زخموں کے علاج میں شہرہ رکھتی تھی اور اس کا کلینک‘ محض ایک سائبان تھا‘ مسجد نبوی کے بالکل قریب تھا- رسول اللہ نے علاج کی سہولت کے پیش نظر حضرت سعد بن معاذ کا خیمہ مسجد نبوی میں ہی لگوا دیا تھا- تاکہ ہر وقت رفیدہ کی نگہداشت میں رہ سکیں- مگر افسوس کہ حضرت سعد اس کی کاری زخم سے جانبر نہ ہو سکے- (لابن حجر ذکر رفیدہ بحوالہ سیرۃ النبی ج۱- ص ۴۴۲) جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بوقت ضرورت عورت مرد کا اور اسی طرح مرد عورت کا علاج کر سکتے ہیں-