کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 254
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں چونکہ اسلام کے پاس قوت نہیں تھی۔ لہذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دونوں طرح کے کام زبانی تبلیغ سے سرانجام دیئے جاتے رہے۔ قرآن جیسا معجزانہ کلام، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سا بلند کردار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثاروں کی قربانیاں خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی جان تک تبلیغ میں کھپا دینا۔ اور بہترین طریق تبلیغ، ان سب طرح کی کوششوں کے باوجود یہ تو نہ ہو سکا کہ قریش مکہ ایمان لے آتے۔ بے شک وہ اسلام کی حقانیت کے دل سے معترف ہو چکے تھے۔ لیکن اسلام ضابطہ اور کچھ پابندیاں بھی عائد کرتا تھا جو انہیں گوارا نہ تھیں۔ انہیں اپنے بعض مفادات سے بھی دستبردار ہونا پڑتا تھا۔ جس کے لیے وہ قطعاً تیار نہ تھے۔ جو مزے انہیں اپنی خود پسند اور بے ضابطہ زندگی میں حاصل ہو رہے تھے۔ اسلام لانے کی صورت میں ان میں سے اکثر سے دست بردار ہونا پڑتا تھا۔ تلوار کا کام فقط یہ ہوتا ہیکہ وہ بگڑی ہوئی طبیعتوں کو راہ راست پر لے آتی ہے۔ وہ ہدایت کے راستہ کی رکاوٹوں کو دور کر دیتی ہے۔ پھر جو طبائع نیکی کی طرف مائل ہوتی ہیں۔ ان کے لیے راستہ صاف ہو جاتا ہے۔ اور جب تک معصیت اور ظلمت کے یہ پردے چاک نہ ہوں۔ تبلیغ خوہ کتنی ہی دل نشیں انداز میں ہو غیر موثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ اگر تلوار کا اشاعت اسلام میں کچھ حصہ نہ ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت کرنے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی۔ تلوار کا کام صرف اتنا ہی ہے کہ تبلیغ کے بیج کے لیے زمین کو نرم کر دیتی ہے۔ اسلام کی تلوار نے حق کی دشمن اور باطل قوتوں کا قلع قمع کرکے اسلام کے بیج کے لیے زمین کو ہموار اور نرم بنا دیا۔ اسلام کے بیج میں اتنی اہلیت اور قوت ہے کہ اگر اسے فضا سازگار میسر آجائے تو پھل پھول کر تنا ور اور سدا بہار درخت بن سکتا ہے۔ (۲) جہاد فی سبیل اللہ اور عام جنگوں میں فرق مستشرقین نے یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی ہے کہ عام دنیا کی جنگوں اور جہاد میں کوئی فرق نہیں کیونکہ دونوں کا مقصد کشور کشائی اور اپنی ہمسایہ قوموں کو مفتوح بنا کر ان سے مالی مفاد حاصل کرنا ہے۔ اس دلیل کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی یہ کہہ دے کہ سونا اور پیتل ایک ہی چیز ہے۔ کیونکہ دونوں چیزیں دھات سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا رنگ بھی ایک ہی جیسا ہوتاہے۔ [1] الفاروق ص ۱۹۱