کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 252
’’تورات کی قسم ! جب تک ہم زندہ ہیں قیصر حمص پر قبضہ نہیں کرسکتا۔ یہ کہہ کرشہر پناہ کے دروازے بند کر دئیے اور ہر جگہ چوکی کا پہرہ بٹھا دیا۔‘‘[1] اب دیکھئے یہودی حمص پر عیسائیوں کا قبضہ گوارا نہیں کرسکتے اور ان پر مسلمانو ں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ عیسائی خود بھی ہرقل کے بجائے مسلمانوں کے چلے جانے پر آنسو بہاتے ہیں۔ تلوار کا کام ختم ہوچکا تھا۔ اب ان لوگوں کے دلوں کو کس چیز نے مسحور کر دیا تھا؟ (۵) عفوو درگزر: جب کسی دشمن پر پوری طرح قابو پالیا جائے۔ اس وقت اس کے جرائم سے چشم پوشی کر کے اسے معاف کر دینا بڑے حوصلہ کا کام ہے۔یہ بھی اشاعت اسلام کے اسباب میں سے ایک بڑا اہم سبب ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ:۔ (۱) غزوہ ذات الرقاع سے واپسی پر ایک بدو درخت سے لٹکی ہوئی تلوار سونت کر کھڑا ہو گیا۔ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے تو اس بدونے، جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا، کہا ۔ اب تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ ’’ میرا اللہ‘‘ یہ سنتے ہی اس پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ تلوار ہاتھ سے گرگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار سنبھال لی۔ بعد ازاں اسے معاف کر دیا (یہ واقعہ تفصیل سے گزر چکا ہے) اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ خود ہی مسلمان نہیں ہوا بلکہ اس کا قبیلہ بھی مسلمان ہو گیا۔ اشاعت اسلام کا یہ کام اس وقت ہوا جب تلوار نے اپنا کا م چھوڑ دیا تھا۔ (۲) صلح حدیبیہ کے وقت ابتدائی سفارتی بات چیت کے دوران چند نوجوانان قریش۲۰۰ کی جمعیت اکٹھی کرکے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ جنہوں نے مسلمانوں سے شکست کھائی اور وہ گرفتار ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر سگالی کے طور پر ان سب کو چھوڑ دیا۔ صلح حدیبیہ میں بھی توہین آمیز شرائط قبول کرکے لڑائی پر صلح کو ترجیح دی جس کا اثر یہ ہوا کہ بے شمار قبائل از خود مسلمان ہو گئے۔ (تفصیل پہلے گزر چکی ہے) (۳) فتح مکہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ازلی دشمنوں پر پوری طرح قابو پا لینے کے بعد عام معافی کا اعلان کیا۔ تو اس کا اثر یہ ہوا کہ اسلام اتنی تیزی سے پھیلاکہ اس سے پہلے [1] الفاروق ص ۱۸۹