کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 210
فوقتاً ہوا کا رُخ دیکھ کر ایسے معاہدات کرلیتے تھے۔ جنہیں دوسرے حق پرستوں سے صیغۂ راز میں رکھا جاتا تھا۔ بین الاقوامی ڈاکہ زنی کی یہ اسکیم شائد صیغۂ راز میں ہی رہ جاتی اگر دورانِ جنگ روس انقلاب کا شکار نہ ہوجاتا۔ اپریل 1917ء میں جب راز کی حکومت کا تختہ الٹا اور بالشویکوں کی حکومت قائم ہوگئی تو انہوں نے سرمایہ دار حکومتوں کے گھنا ؤ نے کردار کو بے نقاب کرنے کے لیے وہ تمام خفیہ معاہدات شائع کردئیے۔ جو انہیں زار کی حکومت کے نہاں خانوں میں دستیاب ہوئے تھے۔ ان معاہدات کی کوئی دفعہ ایسی نہیں تھی جس میں مخالف سلطنتوں کے کسی نہ کسی علاقہ یا ان کی اقتصادی ثروت کے کسی نہ کسی وسیع علاقے کو ان ’’حق پرستوں‘‘ نے آپس میں بانٹنے کا فیصلہ نہ کیا ہو۔ (۲)مہلک آلات جنگ کا استعمال: جنگ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دشمن کی قوت ارادی کو مفلوج کرکے اسے اطاعت پر مجبور کردیا جائے۔ اور اس مقصد کے حصول کا بہترین طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے اور دشمن کے مال وجان کا نقصان کم سے کم ہو۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بے دریغ قتل وغارت یا دہشت گردی کے بعد بھی دشمن اطاعت پر آمادہ نہیں ہوتا۔ لہذا انسانیت کا تقاضا یہ ہے۔ کہ دشمن کے جان ومال کی بربادی کو اصل مقصد نہ سمجھا جائے بلکہ اس سے حتی الامکان احتراز کیا جائے۔ لیکن موجودہ دور کے آلاتِ جنگ ، اور بمبارہوائی جہاز اس لحاظ سے انتہائی وحشیانہ کردار ادا کرتے ہیں۔ نہ ہی وہ مقاتلین اور محاربین میں کوئی تمیز روا رکھتے ہیں۔ اور شاید رکھ بھی نہیں سکتے۔ ایسے وحشیانہ افعال سے بربادی وہلاکت تو اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ لیکن کبھی کوئی علاقہ فتح نہیں ہوتا۔ اس صورت حال نے مغربی اقوام کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ وہ ایسے افعال پر پابندی عائد کریں۔ چنانچہ 1868ء اور1907ء کی کانفرنسوں میں یہ اصول تسلیم کیا گیا کہ دشمن کو ایسا جانی نقصان نہ پہنچانا چاہیے جو جنگ کے مقاصد میں کوئی مدد نہ دے مگر اس کی تکالیف میں غیر معمولی اضافہ کا باعث ہو۔ اس اصول کے مطابق حسبِ ذیل اشیاء کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا۔ (۱) اشتعال پذیر اور آتش گیر مادے جن کا وزن ۱۴اونس سے کم ہو۔ (۲) پھٹنے والی گولیاں جو جسم میں داخل ہو کر پھیل جاتی ہوں۔ [1] واضح رہے کہ ایسے خفیہ معاہدات دوسرے ’’حق پرستوں‘‘ یعنی اٹلی اور روس سے بھی صیغہ راز میں رکھے گئے تھے۔