کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 201
اور یہ کتاب ہائیڈل برگ کی یونیورسٹی میں بطورِ نصاب شامل کرلی گئی۔ بعدازاں دوسرے مصنفین اور سیاسی مدبّرین نے تصنیفات‘ رسائل اور مضامین کے ذریعہ گروٹیوس کے مشن کی آبیاری کی اور اسے مزید آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ بین الاقوامی قانون کے ماخذ: آج کا بین الاقوامی قانون دو اقسام پر مشتمل ہے۔ پہلی قسم تحریری یا مدوّن (WRITTEN ) ہے۔ جو مندرجہ ذیل اجزاء پر مشتمل ہیں۔ (۱) اخلاقی گروہ یا سیاسی مُدبّرین کے افکارو تصانیف جن کا اوپر زکر ہو چکا۔ (۲) مختلف اقوام کے آپس میں باہمی سمجھوتے اور تحریری معاہدات جن کی رُو سے جنگ کے لیے ضوابط طے کر لیے گئے ہیں۔ (۳) مختلف امن کانفرنسوں میں پیش یا پاس ہونے والی تجاویز ، جو مختلف ادوار میں جنیوا‘ ہیگ اور دوسرے مقامات پر منعقد ہوتی رہیں۔ بین الاقوامی قانون کی دوسری قسم غیر مدوّن یا بے لکھی (UN WRITTEN ) ہے۔ جو متحارب قوموں کے باہمی معاملات اور عملی سیاسیات سے عبارت ہے۔ ان دونوں مندرجہ اقسام میں سے کون سی قسم زیادہ معتبر یا مستند ہے اوراختلافات کی صورت میں حجت بننے کی صلاحیت کس میں ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا آج تک کوئی تصفیہ نہیں ہو سکا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ قانونی گروہ یا قانون کے مدوّن کرنے والے ایک مہذب قاعدہ وضع کرتے ہیں تو فوجی گروہ اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اور چونکہ عمل کی تمام قوتیں فوجی گروہ کے ہا تھ میں ہوتی ہیں۔ اس لیے کتابوں میں لکھا ہوا قانون کتابوں میں دھرار رہتا ہے۔اور اصلی قانونِ جنگ وہ ہوتا ہے۔ جس کو فوجیں خود اپنے عمل سے میدانِ جنگ میں وضع کرتی ہیں۔ فوجی گروہ یہ کہتا ہے۔کہ جنگ کو کسی ضابطہ اور قانون کے تحت لانا سرے سے ممکن ہی نہیں ہے۔ جنگ اور قانون میں ایک فطری تناقض ہے۔ جنگ قانون کی طبیعت کے عین خلاف ہے اور جنگ کا اصلی قا نون وہ نہیں جو ہیگ اور جنیوا میں مرتب کیا گیا ہے بلکہ وہ ہے جسے میدانِ جنگ میں توپیں اور سنگینیں مدوّن کرتی ہیں۔ [1] کتا ب الام لا ما م شا فعی ج ۴ص ۱۱۰ بحوالہ اسلام اور قا نون جنگ و صلح ص ۱۳۹۔۱۴۰