کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 194
(۵) عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جب فسطاط فتح کیاتو مقوقس والئی مصر نے جزیہ کی بجائے یہ شرط منظور کی کہ فوج اسلام جدھر رُخ کرے گی سفر کی خدمت (یعنی راستہ صاف کرنا، سڑک بنانا ،پل باندھنا وغیرہ)۔ مصری انجام دیں گے۔ چنانچہ عمرو بن عاص جب رومیوں کے مقابلے کے لیے اسکندریہ کی طرف بڑھے تو خود مصری منزل بہ منزل پل باندھتے، سڑک بناتے اور بازار لگاتے گئے۔ علامہ مقریزی نے لکھا ہے کہ چونکہ مسلمانوں کے سلوک نے تمام ملک کو گرویدہ کرلیا تھا اس لیے قبطی خود بڑی خوشی سے ان خدمتوں کو سرانجام دیتے تھے۔ (الفاروق ص۳۹۴) (۶) شام کی فتوحات کے سلسلہ میں جنگی مقاصد کے پیش نظر اسلامی سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو حمص سے واپس جانا پڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذمیوں کو بلا کرکہا۔ ’’ہمیں تم سے جو تعلق تھا وہ اب بھی ہے۔ لیکن اب چونکہ تمہاری حفاظت سے قاصر ہیں لہذا تمہارا جزیہ تمہیں واپس کیا جاتا ہے ‘‘۔ چنانچہ کئی لاکھ کی وصول شدہ رقم واپس کردی گئی۔ عیسائیوں کو اس واقعہ کا اتنا اثر ہوا کہ روتے جاتے تھے اور جوش کے ساتھ کہتے جاتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں واپس لائے۔ یہودیوں پر اس سے بھی زیادہ اثر ہوا۔ انہوں نے تورات کی قسم کھا کر کہا۔ کہ جب تک ہم زندہ ہیں قیصر حمص پر قبضہ نہیں کرسکتا یہ کہہ کر شہر پناہ کے دروازے بند کرلیے اور ہر جگہ چوکی کا پہرہ بٹھا دیا ۔ (الفاروق ص۱۹۱) ان واقعات سے صاف پتہ چلتا ہے ۔ کہ جزیہ کی وصولی سے مقصود مفتوح قوم کو ذلیل کرنا ہرگز مقصودنہ تھا (جیسا کہ اہل مغرب نے تاثر دیا ہے) بلکہ اس کی حیثیت محض دفاعی ٹیکس کی تھی۔ اور وہ بھی اس پر جو اسے بخوشی قبول کرے۔ جزیہ اور خراج کی شرح اور وصولی میں نرمی: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دوباتوں کا بہت زیادہ خیال رہتا تھا۔ (۱) جزیہ یا خراج کی شرح ایسی ہو کہ وہ آسانی سے ادا کرسکیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عراق کی مفتوحہ زمینوں پر خراج کی تعیین کے لیے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ‘بن یمان رضی اللہ عنہ اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ جیسے اکابرین صحابہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ جو اس فن میں کافی ماہر تھے۔ جب [1] بخاری۔ کتاب الجهاد۔ باب الجزیة الموادعة