کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 176
فرمایا اگر ان کو پا ؤ تو انہیں جلا دینا ‘‘۔ پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رُخصت ہونے کو آئے جب نکلنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’میں نے پہلے تم کو یہ حکم دیا تھا کہ دو شخصوں کو آگ میں جلا دینا۔ لیکن آگ اللہ ہی کا عذاب ہے۔ آگ میں جلانا اسی کو سزا وار ہے۔ اگر تم ان کو پکڑلو تو انہیں قتل کردینا۔) (۴) عبادت گاہوں کی بربادی: فاتح افواج عموماً حریف کے معبدوں سے گھوڑوں کے اصطبل یا اسٹور کا کام لیتی ہیں۔ اسلام میں ایسی باتوں کی قطعاً اجازت نہیں وہ دوسری اقوام کے عبادت خانوں کی حفاظت کی خود ذمہ داری لیتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جیش اسا مہ کو رخصت کرتے وقت جو ہدایات دی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ دشمن کے معبدوں کا احترام بحال رکھا جائے[1]۔ مندرجہ بالا تمام منتقمانہ کاروائیوں سے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْااِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ (۵/۸) مذکورہ بالا قوانین میں مستثنیات کے لیے دیکھئے باب ۵ زیر عنوان جنگی ضروریات) (تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس پر نہ اُبھارے کہ تم انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو۔ یہی پرہیز گاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ پرہیز گاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔) [1] ابو دا ؤ د۔ کتاب الجهاد۔ باب فی النهی عن المثلة