کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 173
دوران یا فتح کے بعد دشمن کی عورتوں کی عصمت دری کرنا خالص زنا میں شمار ہوگا۔ (۲) امیر کے ذریعہ تقسیم میں کسی عورت کا کسی مجاہد کے حصہ میں آجانا ہی نکاح کا درجہ رکھتا ہے۔ اس سے پہلے اگر وہ منکوحہ تھی تو اس کا سابقہ نکاح از خود ٹوٹ جاتا ہے۔ (۳) عام حالات میں ایک ماہ کے بعد اور اگر حاملہ ہے تو وضع حمل کے بعد اس سے صحبت رواہے۔ (نووی میں شرح مسلم۔ باب جوازووطی المسبیۃ بعد الاستبراء) پھر اس کے ساتھ ہی وہ پابندیاں بھی عائد ہوجاتی ہیں جو اسلام نے اس سلسلہ میں عائد کی ہیں۔ مثلاً بہتر سلوک ۔ حسنِ معاشرت اور ان کی آزادی کے حقوق وغیرہ۔ (۴)۔ تقسیم میں آنے کے بعد بھی بہتر صورت یہ ہے کہ لونڈی کو آزاد کرکے اس سے باقاعدہ نکاح کرلیا جائے۔ جیسا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا(بنت حیی بن اخطب) کو آزاد کرکے اپنے نکاح میں لائے تھے۔ حضرت عمر ص نے اپنے دورِ خلافت میں لونڈی غلام بنانے کی اجازت کی حوصلہ شکنی کرکے اسے تقریباً ختم ہی کردیا ۔ آج کل لونڈی غلام بنانے کا دستور ختم ہوچکا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے اور اسلام کے مزاج کے عین مطابق ہے ۔ لیکن یہ اچھی بات اس صورت میں سمجھی جا سکتی ہے جب کہ فحاشی کا پورا سدباب بھی کیا جاسکے۔ اور اگر فحاشی اور عصمت دری کے تمام دروازے کھلے رہیں۔ تو اس سے لونڈی بنانے کی اجازت ہزار درجہ بہتر ہے۔ بشرطیکہ تمتع کے بعد کی تمام تر پابندیاں گوارہ کی جائیں۔ (۶)فاتحین کا جوش انتقام فاتح افواج فتح کی خوشیاں منانے، لوٹ مار اور عصمت دری پر بس نہیں کرتیں بلکہ وہ اپنے حریف کو ہر ممکن طرح سے رسوا کرنے اوراس کے علاقہ میں دہشت کے لیے کئی قسم کی ناجائز حرکات بھی کرتی ہیں۔ بموجب قول باری تعالیٰ:۔ ﴿ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَجَعَلُوْٓا اَعِزَّةَ اَهْلِهَآ اَذِلَّةً ۚ وَكَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ 34؁ ﴾ (۲۷/۳۴) (بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کردیتے ہیں اور وہاں کے عزت والوں کو ذلیل کردیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے۔) [1] نسائی۔ کتاب الجہاد۔ باب ثواب السریۃ التی تخفق