کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 171
تھا۔ جسے قرآن کریم نے ’’تبتغون عرض الدنیا‘‘ کے ناپسندیدہ الفاظ سے بیان فرمایا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مال غنیمت کے لیے جہاد کیا اس کے لیے آخرت میں کوئی اجر نہیں۔ اور ایسے مجاہدجومال غنیمت کی حرص کے بغیر جہاد کرتے ہیں۔ غازی ہوکر واپس ہوں اور اموال غنیمت سے حصہ پالیں ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو تہائی اجر انہوں نے وصول پالیا۔ اب صرف تیسرا حصہ اجرا نہیں آخرت میں ملے گا اور جو مجاہد لڑتا ہوا شہید ہوگیا ۔ اس کا مکمل اجر آخرت میں اُسے ملے گا[1]۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہید زندہ غازی سے، جس نے غنیمت سے حصہ پایا ہے، بہت زیادہ افضل ہے۔ دور حاضر اور اموال غنیمت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں باقاعدہ تنخواہ دار افواج نہیں تھیں۔ لہٰذا انہیں اپنے اخراجات اور سامانِ جنگ کی تیاری کے لیے اموالِ غنیمت سے حصہ مل جاتا تھا۔ حضرت عمر ص کے زمانہ میں فوج کا باقاعدہ محکمہ قائم ہوگیا۔ لشکریوں کو تنخوا ہیں ملنے لگیں تو اموال غنیمت بھی بیت المال کا حق قرار پایا۔ اور یہ دستور آج تک چلا آتا ہے۔ سب ’’اسلاب‘‘ بھی سٹور میں جمع ہیں اور حکومت اعلان کرتی ہے کہ مثلاً ہر فوجی ایک ایک کوٹ یا ایک ایک گھڑی اپنے پاس رکھنے کا حق دار ہے۔ باقی اسباب جمع ہوگا۔ بہر حال ایسے ذیلی قوانین حسبِ موقع ومحل بنائے جاسکتے ہیں۔ عصمت کی پاسبانی: فاتح قوم کا یہ بھی حق سمجھا جاتا ہے کہ وہ مفتوح قوم کی عورتوں کی بے دریغ عصمت دری کریں اور اس میں اپنی برتری محسوس کرتی ہیں اسلام کی نظر میں یہ جتنا بڑا جرم عام حالات میں ہے اتنا ہی میدانِ جنگ میں اور فتح کے بعد بھی ہے۔ فوجیوں کو بسا اوقات بہت مدّت گھر سے باہر رہنا پڑتا ہے ۔ جن سے ان کی جنسی بھوک تیز ہوجاتی ہے۔ تو فتح کے بعد وہ اس سلسلے میں ایسی وحشت وبربریت کا اظہار کرتے ہیں۔ کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا علاج یہ سوچا تھا کہ ہر فوجی کو زیادہ سے زیادہ ۴ماہ بعد چھٹی ضروردی جائے۔ تاکہ فوج میں فحاشی کا رجحان نہ پھیل سکے۔ [1] ابو داؤد ، کتاب الجهاد، باب فی عقوبة الغال [2] ابو داؤد۔ حواله ایضاً [3] بخاری کتاب الجہاد ۔ باب ما یصیب من الطعام من ارض الحرب