کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 164
جنگ اُحد میں حضوراکرم ا نے اپنی تلوار بلند کرکے فرمایا: کون اس کا حق ادا کرے گا؟ سب صحابہ اس سعادت کے حصول کے لیے متوجہ ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ انتخاب حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ پر پڑی ۔ ابودجانہ رضی اللہ عنہ کو اس عزت افزائی نے بجا طور پر فخر کا موقع بخشا۔ آپ پہلوانوں کی طرح اکڑتے ہوئے صف سے میدان کی طرف نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا: یہ چال ناپسندیدہ ہے۔ لیکن اس وقت یہ بھی اللہ کو پسند ہے[1]۔ اسلامی جھنڈا: اسی طرح کا مظاہر ہ مکہ میں داخلے کے وقت لشکر اسلام نے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کے سپہ سالار ابو سفیان کو بلند مقام پر کھڑا کیا اور افواج اسلام کو حکم دیا کہ وہ بڑی آن بان سے اپنے جھنڈے بلند کیے سامنے سے باری باری گزریں۔ حالانکہ عام حالات میں یہ باتیں فخر و تکبر پر محمول کی جاتی ہیں۔ جھنڈے کوبلند رکھنا بھی افواج کے حوصلے بلند رکھتا ہے۔ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جھنڈا ایک بلند مقام پر گاڑنے کا حکم فرمایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا قیس بن سعد انصاری اٹھائے ہوئے تھے[2]۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر حملہ کیا ۔ تو خیبر کا ایک مضبوط ترین قلعہ سرہونے میں نہ آتا تھا۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میں کل جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر خیبر فتح ہوگا۔ چنانچہ دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا۔ جنہوں نے یہ قلعہ بھی سرکرلیا[3]۔ اسلام میں جھنڈے کی ابتدا غزوہ خیبر سے ہوئی۔ اور یہی وہ پہلا معرکہ ہے جس میںمسلمانوں نے کچھ علاقہ سرکیا تھا۔ اس سے پہلے کی جنگیں بیشتر مدافعانہ قسم کی تھیں۔ اس کے بعد ہر جنگ میں جھنڈا قومی شعار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ (اسلام کے قوانین صلح وجنگ) [1] بخاری۔ کتاب الجهاد والسیر- باب کان النبی اذا الم یقاتل اول النهار [2] مسلم۔ کتاب۔ الجہاد والسیر- باب الوفاء بالعہد