کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 158
حفاظت کرنا اور ان میں پناہ پکڑنا، لڑائی سے پیشتر سامانِ جنگ تیار رکھنا ، دشمن کے نقل وحرکت سے باخبر رہنا اس کا مداوا سوچنا ، دشمن کی بے خبری میں حملہ کے لیے تیار رہنا سب کچھ خُذُوْا حِذْرَکُمْ کے مفہوم میں سما جاتا ہے:۔ دورِ نبوی میں اسلحہ جنگ ہر سپاہی کی انفرادی ملکیت ہوتا تھا۔ لیکن آج اسلحہ جنگ مہیا کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ لہذا اسلحہ جنگ تیار کرنے والے کارخانوں‘ سٹوروں کا تحفظ اور بچا ؤ بھی خُذُوْا حِذْرَکُمْ میں آتا ہے۔ غرض قوم وملک کا تحفظ افرادِ فوج کے تحفظ کی تدابیر، آلات جنگ کا تحفظ، لڑائی کے منصوبوںکو راز میں رکھنا۔ سب کچھ اس حکم میں داخل ہے۔ آج دشمن سب سے پہلے اسلحہ کے محفوظ ذخائر کو اچانک حملے کے ذریعہ تباہ کردیتا ہے۔ ان سب امور کی طرف اس آیت میں مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی ہے۔ (۹) میدان جنگ سے فرار گناہ عظیم ہے: ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ آ اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ.وَمَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْ مَئِذٍ دُبُرَهُ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیّزًا اِلیٰ فِئَةٍ فقد بَاءَ بِغَضَبٍ مِّنْ اللّٰهِ وَمَاْوٰه جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ﴾(۸:۱۵،۱۶) (اے ایمان والو! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا۔ اور جو شخص جنگ کے روز، سوائے اس کے کہ پینترا بدل کر لڑنا چاہتا ہو یا اپنی فوج سے جاملنا چاہتا ہو، دشمن سے پیٹھ پھیرے گا تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ کے غضب میں گرفتار ہوگیا۔ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔) وجہ یہ ہے کہ اسلام میں بھاگنے ، ہتھیار ڈالنے اور شکست کھانے کا کوئی تصور نہیں۔ مسلمان کے لیے بس دو ہی راستے ہیں یا تو فتح یاب ہوکر واپس لوٹے اور غازی کہلائے۔ یا پھر شہید ہوکر شہادت کا بلند مقام حاصل کرے۔ ارشاد باری ہے: ﴿وَمَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیهِ اَجْرًا عَظِیْمَا ﴾(۴/۷۴) (اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کرے ، پھر مارا جائے یا غالب آجائے۔ تو دونوں صورتوں میں ہم اس کو بہت بڑا اجر دیں گے۔ )) [1] بخاری۔ کتاب الجهاد والسیر ۔ باب قتل النساءِ فی الحرب [2] ابن ماجۃ ۔ کتاب الجهاد- باب الغارة والبیات و قتل النساء والصبیان