کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 157
فرمایا۔’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے شایانِ شان نہیں کہ ایک عورت کے خون سے رنگین ہو‘‘[1]۔ (۷)مقاتل اور غیرمقاتل: مقاتل ہر وہ شخص ہے۔ جو عملاً جنگ میں حصہ لے رہا ہو یا کم از کم عرفاً جنگ میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسے اشخاص سے قتال جائز ہے۔ اور ہر وہ شخص جو عرفاً جنگ کے قابل نہ ہو یا مزاجاً جنگ میں حصہ لینے کا مزاج نہ رکھتا ہووہ غیر مقاتل ہے۔ اور اس کا قتل جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں مندرجہ ذیل اشخاص کو غیر مقاتل قرار دیا ہے۔ بچے، بوڑھے، عورتیں ۔ درویش اور صوفی قسم کے لوگ ، معبدوں سے تعلق رکھنے والے، اندھے، لنگڑے لُولے اور دوسری قسم کے معذور لوگ۔ بعد میں خلفائے اسلام نے غیر مقاتل میں کاشتکاروں اور تاجروں کو بھی شامل کردیاتھا۔ کیونکہ ایسے لوگوں کا مزاج طبعاً جنگ سے لگا نہیں کھاتا۔ (۸) جنگ کے دوران ہر وقت مسلح رہنا چاہیے: ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَدَّ الذَّیْنَ کَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَاَمْتِعَتِکُمْ فَیَمِیْلُوْنَ علیکم مَیْلَةً وَاحِدَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِّنْ مَطَرٍ اَوْ کُنْتُمْ مَرْضٰی اَنْ تَضَعُوْآ اَسْلِحَتَکُمْ.وَخُذُوْ ا حِذْرَکُمْ﴾(۴:۱۰۱) (کافر لوگ تو بہت چاہتے ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہوجا ؤ تاکہ وہ تم پر یکبارگی حملہ کردیں ہاں اگر تم بارش کی تکلیف یا بیماری کی وجہ سے ہتھیار اتار دو تو تم پر گناہ نہیں۔ مگر ہوشیار رہنا ضروری ہے۔ ) آیت مذکورہ میں ہتھیار اتارنے کی صرف دو صورتوں میں اجازت ہے۔ بارش ہورہی ہو۔ کپڑے اور ہتھیار وغیرہ بھیگ رہے ہوں یا کوئی شخص بیماری کی وجہ سے ہتھیار بند رہنے کا متحمل نہ ہو۔ اس کے علاوہ ہتھیار اتارنے کی اجازت نہیں۔ اسی لیے آخرمیں تاکیداً پھر فرمادیا وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ اور وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ کے الفاظ بڑے وسیع مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے معنی ہوشیار اور چوکنا رہنا مسلح رہنا اور اپنے بچا ؤ کے تمام ذرائع اختیار کرنا ہے۔ مورچوں کی [1] مشکوٰۃ۔ کتاب الجہاد- باب القتال فی الجہاد