کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 154
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھاگ آئے (تو اب اس میں کیوں داخل ہوں) اسی بحث تمحیص میں آگ بجھ گئی اور اتنے میں امیر کا غصہ فرو ہوگیا۔ جب یہ خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔ ’’اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اس سے نہ نکلتے۔ (یاد رکھو ) اطاعت صرف ان باتوں میں ہے جو خلاف شریعت نہ ہوں-) اس حدیث سے مندرجہ ذیل اُمور پر روشنی پڑتی ہے: (۱) شریعت کے خلاف حکم دینے والاخواہ بادشاہ ہو یا امیر لشکر، مولوی ہو یا امیر لشکر ، مولوی ہو یا پیر، ولی ہو یا قطب، خاوند ہو یا آقا والدہو یا والدہ کسی کی اطاعت نہ کرنی چاہیے۔ (۲) جو خلافِ شریعت کاموں میں اطاعت کرے گا۔ وہ خود بھی گناہ گار ہوگا۔ اگر یہ فوجی دستہ حکم مان لیتا۔ تو ایک اسے غیر معروف میں اطاعت کی سزا ملتی دوسرے خود کشی کی- (۳) بادشاہ یا امیر لشکر کو بنیادی حقوق جو شریعت کے مقرر کردئیے ہیں انہیں پامال کرنے کا کوئی حق نہیں۔ خواہ حالات کتنے ہی ہنگامی ہوں رعایا کی جان کی حفاظت امیر کی ذمہ داری ہے اور رعایا کا حق ہے۔ حق کے بغیر بادشاہ بھی نہ کسی کی جان لے سکتا ہے۔ نہ دوسرے بنیادی حقوق معطل کرسکتا ہے۔ (۵)امیر کی اطاعت: یہ ایک پہلو چھوڑ کر باقی ہر طرح کے معاملات میں امیر کی اطاعت لازم ہے۔ خواہ اس کے حکم کی مصلحت سمجھ میں آئے یا نہ آئے اور خواہ یہ حکم بظاہر صریح زیادتی معلوم ہورہا ہو۔ اور میدان جنگ میں تو اس اطاعت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ میدان جنگ میں امیر سے تنازعہ کا واضح مطلب خود شکست کو دعوت دینا ہے۔ جنگ احد میں یہی کچھ ہوا۔ پہاڑی درہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ متعین کیا۔ ان کا امیر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ انہیں حکم یہ تھا کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں یہ دستہ اسی جگہ پر ڈیوٹی دیتا رہے گا۔ پھر جب مسلمانوں کو فتح کے آثار نظر آگئے اور وہ غنیمت کا مال سمیٹنے لگے۔ تو اس دستہ میں اختلاف پیدا [1] بخاری۔ کتاب الجهاد والسیر۔ باب کان النبی اذالم یقاتل اول النهار [2] ابو دا ؤ د۔ کتاب الجهاد فی کراهیة تمنیّٰ لقاء العدوّ بخاری حواله ایضا [3] بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوه بدر [4] متفق علیه