کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 149
کرے تو اس کا جہاد قبول نہیں۔) (۲)دشمن پر جنگ کی شرائط پیش کرنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کا یہ دستور تھا کہ لڑائی شروع کرنے سے پیشتر تین باتیں دشمن کی پیش کی جاتی تھیں اور اسے اختیار دیاجاتا تھا کہ ان میں سے جونسی شرط چاہے قبول کرلے۔ وہ شرائط حسب ذیل ہیں۔ (۱) دشمن کو بذریعہ سفارت پیغام بھیجا جاتا تھا کہ وہ اسلام لے آئیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ جس طرح مسلمان دنیا سے فتنہ و فساد کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ اگر وہ اسلام لے آتے اور مسلمانو ں کے مشن میں ان کے ممدود مدد گار ثابت ہوتے تو ان کو مسلمانوں جیسے جملہ حقوق مل جاتے تھے۔ اور ان کا ملک‘ علاقہ انہی کے پاس رہنے دیاجاتا تھا۔ (۲) دوسری شرط یہ ہوتی تھی کہ اگر وہ اسلام لانا گوارا نہیں کرتے تو مسلمانوں کے مشن میں کم از کم رکاوٹ نہ بنیں۔ اندریں صورت انہیں اپنے مذہبی حکام بجالانے اور اپنی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے کی مکمل آزادی ہوتی تھی۔ البتہ سیاسی اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ آ جاتا تھا پھر انہیں اسلام یا پیغمبر اسلام کے خلاف زہر اگلنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ اور اس قوم کی دفاعی ذمہ داریاں مسلمانوں پر آپڑتی تھیں۔ جس کے عوض انہیں معمولی ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔ جسے شرعی زبان میں جزیہ کہتے ہیں:۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ 29؀ۧ ﴾ (۹/۲۹) (جو لوگ اہل کتاب میں سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ا نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ زیر دست ہو کر اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کریں۔) [1] بخاری۔ کتاب المغازی باب بلا عنوان [2] بخاری ۔ کتاب المغازی