کتاب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار - صفحہ 127
صلیبی جنگوں سے متعلق جو چند واقعات پیش کیے گئے ہیں۔ ان سب میں ایک بات قدر مشترک کے طور پر بھی پائی جاتی ہے۔ اور وہ ہے بے دریغ کشت وخون اور قتل ناحق ۔ فتح کے بعد ‘صلح کرنے کے بعد بھی اور امان دینے کے بعد بھی اور یہی بات ہم اس وقت دیکھنا چاہتے ہیں۔ کہ جہاد میں انسانی خون کی قدروقیمت کیا تھی اور ان میں کیا نسبت رہی۔ یہ تو تھا عیسائیوں کا مفتوح مسلمانوں سے سلوک۔ اب دیکھئے انہوں نے آپس میں کیا کچھ کیا۔ قاضی سلیمان منصور پوری رحمۃ للعالمین ج۲ کے صفحے ۲۱۴ پر رقمطراز ہیں کہ:۔ (۱) یورپ کی مقدس مذہبی انجمنوں نے جس قدر نفوس کوہلاک کیا۔ ان کی تعداد لاکھوں سے زائد ہے۔ (۲) جان ڈیوڈ پورٹ نے اپنی کتاب’’اپالوجی آف محمد اینڈ قرآن ‘‘میں مذہبی عدالت کے احکام سے ہلاک شدہ نفوس کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ بتائی ہے۔ جو عیسائیوں کے ہاتھوں عیسائیوں کی ہوئی تھی۔ (۳) اکیلی سلطنت سپین نے تین لاکھ چالیس ہزار عیسائیوں کو قتل کیا تھا۔ جس میں بتیس ہزار زندہ جلائے گئے تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر نے پانچ لاکھ یہودیوں کو محض اس بنا پر قتل کردیا تھا کہ وہ یہودی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ جنگ مہا بھارت: یہ ہند ؤ ں کے دو بڑے خاندانوں …کورو اور پانڈو…کے درمیان ہوئی۔ خالص مذہبی جنگ تھی۔ جس میں کرشن مہاراج … جو ہند ؤ ں میں اوتار تسلیم کیے جاتے تھے پانڈ ؤ ں کے سرپرست اور طرف دار تھے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کو بھڑکانے اور اسے طویل تر بنانے میں کرشن جی کے اُپدیشوں کو بہت دخل تھا۔ اس مقدس مذہبی جنگ میں فریقین کے مقتولوں کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچتی ہے۔ (رحمۃ للعالمین ج ۲ص ۲۱۴اور تاریخ پاک وہند ۔ایم شمس الدین ص۷) پھر ہند ؤ ں میں مذہب کے نام پر ہند ؤ ں ہی کو قتل کرنے کا ایک اور محاذ بھی کھلا ہے۔ وہ ہے ان میں ذات پات کی تمیز اور اونچ نیچ کا تفاوت …اونچی ذات کی ہر وقت شودر سے چپقلش اور جنگ جاری رہتی ہے۔ ابھی پچھلے دنوں خبر شائع ہوئی تھی کہ ہندوستان میں ۱۹۷۵تا ۱۹۸۰ء ۵ [1] صلیبی جنگوں کی کہانی صفحہ ۲۷۳ بحوالہ جہاد ص۵۵