کتاب: نعت گوئی اور اس کے آداب - صفحہ 269
جانور ، چوپائے، سونا چاندی، مال واسباب غرض جس سے جو ہوسکتا تھا، نذرکردیتا تھا۔کھیتی ، غلے اور کھانے پینے کی چیزیں ، سونا چاندی اور مال واسباب چڑھانے کا طریقہ یہ تھا کہ ان آستانوں پر کچھ مجاور اور درباری ہوا کرتے تھے ۔ مشرکین یہ چیزیں انھیں پیش کرتے اور وہ مجاور انھیں قبروں اور مورتیوں پر چڑھا دیتے تھے۔ عام طورپر ان کے بغیر براہِ راست کوئی چیز نہیں چڑھائی جاتی تھی۔
البتہ جانوروں اور چوپایوں کو چڑھانے کا طریقہ علیحدہ تھا اور اس کی بھی کئی شکلیں تھیں، چنانچہ کبھی وہ ایسا کرتے کہ ان اولیائے کرام اور بزرگانِ دین کی رضا مندی کے لیے جانور کو ان کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے۔ وہ جہاں چاہتا چرتا اور گھومتا، پھر کوئی اسے کسی طرح کی تکلیف نہ پہنچاتا بلکہ تقدس کی نظر سے دیکھتا۔ اور کبھی ایسا کرتے کہ جانور کو ان ولیوں اور بزرگوں کے آستانے پر لے جا کر ذبح کردیتے اور کبھی ایسا کرتے کہ آستانے کی بجائے گھر پر ہی ذبح کرلیتے لیکن کسی ولی یا بزرگ کے نام پر ذبح کرتے۔
ان کاموں کے علاوہ مشرکین کا ایک کام یہ بھی تھا کہ وہ سال میں ایک مرتبہ ان ولیوں اور بزرگوں کے آستانوں پر میلہ لگاتے …وغیرہ
افسوس کہ وہی جہالت تا حال جاری ہے، لہٰذاللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ سب کو صراطِ مستقیم سُجھائے اوراس پر ثابت قدمی سے گامزن ہوجانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمیــن۔
تَمَّــت بِالْخَیْــــر