کتاب: نعت گوئی اور اس کے آداب - صفحہ 268
اللہ کے مقرب ہیں اور اللہ کے نزدیک ان کا خاص مقام ومرتبہ ہے چونکہ اللہ نے انھیں یہ تصرف واختیاردے رکھا ہے، اس لیے وہ بندوں کی ضرورتیں غیبی طریقے سے پوری کردیتے ہیں، چنانچہ بعض مصیبتیں دور کردیتے ہیں، بعض بلائیں ٹال دیتے ہیں اور جس سے خوش ہوجاتے ہیں، اسے اللہ کا مقرب بنا دیتے ہیں اور اللہ سے اس کی سفارش کردیتے ہیں۔
مشرکین نے اپنے ان خیالات کی بنا پر انبیائے کرام ، اولیائے عظام، بزرگانِ دین اور نیکوکار لوگوں کو اپنے اور اللہ کے درمیان وسیلہ بنایا اور ایسے اعمال ایجاد کیے جن کے ذریعے ان لوگوں کا قرب اور ان کی رضا مندی حاصل ہوسکے، چنانچہ وہ مشرکین پہلے ان اعمال کو بجا لاتے، پھر عاجزی کے ساتھ گڑگڑا کر ان ہستیوں ہی سے فریاد کرتے اور کہتے: ’’ہماری ضرورت پوری کرو اور ہماری مصیبت ٹال دو اور ہمارا خطرہ دور کردو۔‘‘
اب رہا یہ سوال کہ وہ کیا اعمال تھے جنھیں مشرکین نے ان ہستیوں کی رضا مندی اور تقرب کے لیے ایجاد کیا تھا؟ تو وہ اعمال یہ تھے کہ انھوں نے ان انبیاء ، اولیاء اور بزرگانِ دین کے نام سے بعض مخصوص جگہوں پر آستانے بنا کر وہاں ان کی اصلی یا خیالی تصویریں یا مورتیاں سجا رکھی تھیں اور کہیں کہیں ایسا بھی ہوا کہ ان کے خیالات میں بعض اولیائے کرام یا بزرگانِ دین کی قبریں مل گئیں تو مورتی تراشنے کے بجائے انھی قبروں پر آستانے بنادیے۔ اس کے بعد یہ لوگ ان آستانوں پر جاتے اور مورتیوں یا قبروں کو چُھو کر ان سے برکت حاصل کرتے، ان کے گرد چکر لگاتے، تعظیم کے طور پر ان کے سامنے کھڑے ہوتے، نذر ونیاز پیش کرتے، چڑھاوے چڑھاتے اور ان طریقوں سے ان کی قربت اور ان کا فضل چاہتے، نیز نذرونیاز اور چڑھاوے کے طور پر یہ لوگ اپنی کوئی بھی چیز پیش کردیتے۔ کھیتی سے حاصل ہونے والے غلے ، کھانے پینے کی چیزیں،